متھرا:
اترپردیش کے متھرا ضلع میں گزشتہ نو ماہ سے جیل میں بند کیرل کے ملپورم کے صحافی صدیق کپن کی ضمانت درخواست منگل کو ایڈیشنل ڈسٹرک جج (اول ) کی عدالت نے خارج کردی۔ کپن کی ضمانت درخواست پر پیر کو بھی سماعت ہوئی تھی۔ اس دوران دفاعی فریق کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل نے اپنا موقف رکھا ۔
غور طلب ہے کہ صدیق کپن کو اس کے ساتھی مسعود احمد، محمد عالم اور عتیق الرحمن کے ساتھ گزشتہ سال 5 اکتوبر کو یمنا ایکسپریس وے کے راستے ہاتھرس جاتے وقت مانٹ ٹول پلازہ پر گرفتار کیا گیا تھا، یہ لوگ ہاتھرس میں ایک لڑکی کے ساتھ ہوئی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں اس کے گاؤں جارہے تھے ۔
چاروں پر فسادات پھیلانے کی سازش ، غیر ملکی مالی اعانت ، آئی ٹی ایکٹ اور ملک سے غداری جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اپریل میں ان کے خلاف ایس ٹی ایف کے ذریعہ ایک چارج شیٹ دائر کی گئی تھی۔
کپن کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل ولس میتھیو نے موقف رکھا۔ انہوں نے عدالت سے صدیق کپن کو ضمانت دینے کی اپیل کی، لیکن جوڈیشل آفیسر انل کمار پانڈے نے فیصلہ سناتے ہوئے ضمانت کی درخواست خارج کردی۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق وکیل ولس میتھیو نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ضمانت حاصل کرنے کی توقع کر رہے تھے ، جس میں ہمیں ضمانت حاصل کرنے کے لئے نچلی عدالت سے رجوع کرنے کے لیے کہا گیا تھا،حالانکہ چارج شیٹ دائر کیا گیا ہے، لیکن کپن کے خلاف لگائے گئے الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہاکہ کپن کے خلاف الزام یہ ہے کہ انہوں نے معاون ساتھیوں کے ساتھ سماج کے اندر دشمنی کو فروع دینے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کومتاثر کرنے والے کام کو انجام دیا، جو براہ راست پرامن ماحول کوبگاڑنے اور فساد بھڑکانےسے متعلق ہے ۔









