لکھنؤ :(ایجنسی)
اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد اے بی پی نیوز سی ووٹر نے تازہ ترین انتخابی سروے پیش کیا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کو 223 سے 235 سیٹیں مل سکتی ہیں، جبکہ سماج وادی پارٹی کو 145 سے 157، بی ایس پی کو 8 سے 16، کانگریس کو 3 سے 7 اور دیگر کو 4 سے 8 سیٹیں مل سکتی ہیں۔
سروے سے واضح ہوتا ہے کہ اتر پردیش میں سیدھا مقابلہ بی جے پی کٹھ بندھن اور سماج وادی پارٹی اتحاد کے درمیان ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ اودھ علاقے میں بی جے پی کو 71 سے 75 اور ایس پی کو 40 سے 44 سیٹیں مل سکتی ہیں۔
سروے کے مطابق پوروانچل کی 130 سیٹوں میں سے بی جے پی کو 66 سے 70 سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ ایس پی کو 48 سے 52 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ اسی طرح مغربی اترپردیش میں بی جے پی کو 71 سے 75 سیٹیں ملیں گی جبکہ ایس پی کو 53 سے 57 سیٹیں ملیں گی۔
اس سروے میں کہا گیا ہے کہ بندیل کھنڈ کی 19 سیٹوں میں سے بی جے پی کو 13 سے 17 اور ایس پی کو 2 سے 6 سیٹیں ملیں گی۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اتحادیوں کے ساتھ اتر پردیش میں 325 سیٹیں جیتی تھیں۔ وہیں ایس پی نے 47 سیٹیں جیتی ہیں۔ لیکن اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ اس بار بی جے پی کو نقصان ہو رہا ہے اور ایس پی کو فائدہ ہو رہا ہے۔
جہاں بہوجن سماج پارٹی کی حالت انتہائی خستہ بتائی جاتی ہے اور کانگریس کی بھی ایسی ہی حالت اس سروے میں کہی گئی ہے۔
سروے کو سمجھنے کے بعد یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے 2 ماہ میں سیاسی تصویر تیزی سے بدل سکتی ہے۔
202 کا جادوئی اعداد وشمار
اتر پردیش میں حکومت بنانے کے لیے ایم ایل ایز کی تعداد 202 ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے پاس زیادہ برتری نہیں ہے اور ایس پی 202 کے اس اعداد و شمار سے زیادہ دور نظر نہیں آتی ہے۔ واضح رہے کہ اتر پردیش میں انتخابی مقابلہ بہت سنسنی خیز ہوگا۔
یوگی آگے!
سروے میں کہا گیا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں سب سے آگے ہیں۔ 43 فیصد لوگ یوگی آدتیہ ناتھ کو بطوروزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں، 34 فیصد اکھلیش یادو، 14 فیصد مایاوتی اور 4 فیصد پرینکا گاندھی کوبطور وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اتر پردیش میں 7 مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی اور اس کے انتخابی نتائج کا اعلان باقی ریاستوں کے ساتھ 10 مارچ کو کیا جائے گا۔









