کولکاتا
تریپورہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت والی بپلب سرکار بحران میں آگئی ہے ۔ انڈین پیپلز فرنٹ آف تریپورہ ( آئی پی ایف ٹی ) کے ایم ایل اے برشکیٹیو دیبر ما نے اپنا استعفیٰ گزشتہ منگل کی شام اسمبلی اسپیکر کو سونپ دیا تھا، حالانکہ اسمبلی اسپیکر ریوٹی موہن داس نے بدھ کو بتایا تھاکہ استعفیٰ ضابطے کی بنیاد پر قبول نہیں کیا گیا ہے ۔ بی جے پی – آئی پی ایف ٹی اتحاد نے 2018 میں 60 سیٹوں میں سے 44 سیٹیں جیت کر بائیں بازو کو ہرایا تھا، لیکن اس ایک ایم ایل اے کے استعفیٰ سے بی جے پی زیر اقتدار سرکار بحران میں دکھائی دے رہی ہے ۔
بنگال اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی زبردست شکست ہوئی ہے ۔ وہیں ٹی ایم سی سے بغاوت کر کے بھگوا اپنانے والے مکل رائے نے پھر سے دیدی کا ہاتھ تھام لیا ہے ۔ جس کے بعد سے یہ بتایا جا رہاہے کہ تریپورہ میں بھی بی جے پی کا کھیل بگاڑ سکتا ہے ۔ کیونکہ کئی ایم ایل اے مبینہ طور پر ٹی ایم سی اور رائے کے رابطے میں ہیں۔
حالانکہ ابھی تک استعفیٰ دینے والے حکمراں جماعت کے ایم ایل اے دیبرما نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیا ہے ، لیکن گزشتہ کچھ مہینوں سے ترپیورہ بی جے پی کے اندر خلفشار کے بلبلے نکلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی بابت سیاسی گلیاروں میں بحث ہے کہ کیا بنگال کی وزیراعلیٰ اور ترنموکال کانگریس ( ٹی ایم سی ) بی جے پی کا کھیل بگاڑئےگی۔ اتنا ہی نہیں ’ کھیلا ہوبے‘ کی طرز پر تریپورہ کو لے کر بھی ایک گانا ریلز ہو چکا ہے ۔ جس طرح سے بنگال انتخاب میں ٹی ایم سی کا’ کھیلاہوبے‘گاناہٹ ہوا تھا ،اسی طرز پر پارٹی نے تریپورہ کے لیے ’کھیلا ہوبے تریپورائے‘ گانا ریلیز کر دیا گیا ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ استعفیٰ دینے والے ایم ایل اے دیبرما کس سمت رخ کرتے ہیں۔ وہیں ممتا کی تکڑی لگاتار مودی – شاہ پر بھاری پڑتی نظر آرہی ہے۔ انتخاب سے پہلے بی جے پی میں شامل ہونے والے زیادہ تر ٹی ایم سی باغیوں نے انتخاب کے بعد پھر سے دیدی کا ہاتھ تھام لیا ہے ۔









