نقطہ نظر:م ع صدیقی
ہندوستان اپنی گنگا جمنی تہذیب اور آئین کی رو سے ایک ایسا ملک ہے جہاں زبان، مذہب اور نسل کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ لیکن افسوس کہ آج آسام میں یہ آئینی اصول اور انسانی قدریں پامال ہو رہی ہیں۔ وہاں خاص طور پر بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے۔ گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، زمینیں چھینی جا رہی ہیں، روزگار ختم کیا جا رہا ہے اور اس سب کے ساتھ ساتھ ان کی زبان، تہذیب اور شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ظلم کی شکلیں, نفرت کا سلسلہ
یہ صرف مکانات کے انہدام کا معاملہ نہیں بلکہ ایک پوری کمیونٹی کی مسلسل تذلیل کا منصوبہ ہے
**انہیں گھٹیا اور کمتر قرار دینا۔
**-ان کی زبان و ثقافت پر حملے کرنا
**ا تمام مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانا *سبزی مہنگی ہو تو ان پر الزام، سیلاب آئے تو انہیں سزا، کوئی مسئلہ کھڑا ہو تو وہی موردِ الزام۔
یہ وہ نفرت ہے جس نے آسام کی فضا کو زہر آلود بنا دیا ہے اور ہندوستان کے آئین کو چیلنج کر دیا ہے۔
اشتعال انگیز بیانات اور نازیبا زبان :آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما بار بار نفرت انگیز بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کہا کہ "اگر مولانا محمود مدنی آسام آئیں گے تو ہم انہیں بنگلہ دیش بھیج دیں گے۔” یہ جملہ صرف ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ اس پوری ملت کی تذلیل ہے جو نسلوں سے آسام اور ہندوستان کی زمین پر وفاداری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔مزید یہ کہ انہوں نے مدنی خاندان کو "گینگ” اور "بدمعاش” تک کہا۔ یہ الفاظ نہ صرف شرمناک ہیں بلکہ سرما کی جہالت کا پتہ دیتے ہیں، کیونکہ انہیں شاید معلوم ہی نہیں کہ مدنی خاندان نے اس ملک اور خصوصاً آسام پر کتنے احسانات کیے ہیں۔
مدنی خاندان اور جمعیۃ کی تاریخی خدمات مدنی خاندان کی تاریخ قربانی اور خدمت کی تاریخ ہے۔ آزادی کی جدوجہد سے لے کر آج تک اس خاندان نے ہمیشہ وطن اور ملت کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ آسام کے چپے چپے پر اس خاندان کے کارنامے موجود ہیں۔یہی جمعیۃ علماء ہند تھی جس نے 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ میں ظلم کا شکار بنگالی مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ اُس وقت ظلم کرنے والے پاکستان کی فوج تھی جو بظاہر "مسلمان” تھی، مگر جمعیۃ نے انصاف اور حق کا ساتھ دیا اور بنگالی زبان بولنے والوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ یہ تاریخ آج بھی گواہ ہے کہ جمعیۃ نے ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کی اور ظالم کے خلاف آواز بلند کی، چاہے ظالم کوئی بھی ہو۔
زبان و نسل کے خلاف کھلی مہم
آسام میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہندوستان کے آئینی وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کہتا ہے کہ زبان، نسل اور مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہوگی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بنگالی مسلمانوں کو صرف ان کی زبان اور نسل کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسی خطرناک مہم ہے جسے اگر وقت پر نہ روکا گیا تو یہ ملک کے سیکولر ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دے گی۔
مرکزی حکومت کی حمایت اور انسانیت کی توہین افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ظلم پر مرکزی حکومت بھی خاموش نہیں بلکہ عملی طور پر اس کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جب ملک کے وزیر داخلہ نے آسام جا کر اس متعصب رویے کی تائید کی تو یہ پیغام گیا کہ یہ ظلم محض ریاستی نہیں بلکہ حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس سے نہ صرف آئین کو رسوا کیا گیا بلکہ انسانیت کو بھی۔
نفرت کے علمبردار اور تاریخ کا انجام
ہمنتا سرما کا رویہ دراصل تاریخ کے ان سیاہ کرداروں کی یاد دلاتا ہے جو اپنی قوموں کو نفرت اور ظلم کے راستے پر لے گئے — ہٹلر اور مسولینی جیسے کردار۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ ایسے ظالم ذلت و رسوائی کے ساتھ ختم ہوئے۔ آج سرما بھی اسی راستے پر ہیں اور وقت دور نہیں جب ان کا نام بھی تاریخ کے مکروہ اوراق میں لکھا جائے گا۔
مولانا محمود مدنی کی للکار
ایسے ماحول میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا محمود مدنی کا آسام پہنچنا ایک تاریخ ساز قدم ہے۔ انہوں نے کہا”یہ مسئلہ مکان گرانے کا نہیں بلکہ ایک پوری قوم کو ذلیل کرنے اور ان کے وجود کو مٹانے کی کوشش ہے۔””ظالم کو ظلم سے روکنا ہی انسانیت کی خدمت اور ہندوستان کی خدمت ہے۔”یہ پیغام اس وقت پورے ملک کو جھنجھوڑنے والا ہے کہ اگر آج ہم نے مظلوموں کا ساتھ نہ دیا تو کل یہ ظلم ہر ایک کے دروازے پر دستک دے گا۔
مولانا محمود مدنی کا آسام کا دورہ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ یہ اعلان ہے کہ ہندوستان کی سرزمین پر ظلم، تعصب اور نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ پیغام ہے کہ زبان، نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی بھی کمیونٹی کو ذلیل کرنا ہندوستان کی روح کو زخمی کرنے کے مترادف ہے۔
جمعیۃ علماء ہند اور مدنی خاندان کی تاریخ خدمت اور قربانی کی تاریخ ہے، اور آج بھی وہی تاریخ آسام کے مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہندوستان کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ آیا وہ ظلم اور نفرت کے ساتھ کھڑے ہیں یا انصاف، بھائی چارے اور آئین کے ساتھ۔
(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ،ادارہ کا اتفاق ہو یہ ضروری نہیں)
سی ایم آسام کی محمود مدنی کو گرفتار کرنے کی دھمکی،اور کیا کہا؟: مولانا محمود مدنی کی جرات مندانہ للکار https://roznamakhabrein.com/assam-cm-threatens-to-arrest-mehmood-madani/: مولانا محمود مدنی کی جرات مندانہ للکار








