نئی دہلی ( خاص رپورٹ :آر کے بیورو) ہندوستانی مسلمانوں کے مشترکہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور معروف عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے راہل گاندھی اور انڈیا بلاک کا نام لیے بغیر کہا کہ ہمیں یعنی مسلمانوں کو ووٹ چوری کے خلاف مہم چلانے والوں کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے،اپ نے پرزور اپیل کے ساتھ اس کاز کو مسلمانوں کے لیے فریضیہ قرار دیا ہے ،گزشتہ جمعہ کو ‘شمع فروزاں’کے تحت لکھ گیے ہفتہ واری کالم میں انہوں نے ‘ووٹ چوری’ پر تفصیل سے قرآن وسنت کے حوالہ سے رہنمائی کی ہے اور مسلمانوں کو مذکورہ بالا مشورہ دیا
‘ووٹ چوری ایک سنگین جرم ہے’ میں بورڈ کے صدر محترم نے کھل کر لکھا ہے کہ "اس وقت ملک کی اپوزیشن پارٹیوں نے ووٹ چوروں کے خلاف اور ان کا ساتھ دینے والے سرکاری افسروں کے خلاف جو آواز اٹھائی ہے، تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اس میں تعاون کریں، ووٹ چوری کو روکنے کی بھرپور کوشش کریں، ووٹ چوروں کو کٹہرے میں کھڑا کریں، یہ جمہوریت میں ظالم حکومتوں سے لڑائی کا ہتھیار اور اپنی مدافعت کی سب سے مؤثر تدبیر ہے” ! مولانا نے بھارت کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید لکھا "ہندوستان میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ فرقہ پرست اور مسلم مخالف طاقتوں نے چوطرفہ حملہ شروع کر دیا ہے ، اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور کمزورکرنے کے لئے جتنے ہتھیار ہو سکتے ہیں ، وہ سب آزمائے جا رہے ہیں”انہوں نے اپنی رائے کو تقویت دینے کے لیے مزید لکھا ” جمہوری نظام میں کسی قوم کا حق رائے دہی حاصل کرنا بھی ایک جہاد ہے ، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ آسام میں لاکھوں مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں ، اور انھیں بغیر دلیل وثبوت کے غیر ملکی قرار دیا جا رہاہے ، ملک کے مختلف علاقوں کی ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کے نام غائب ہیں ، یہ بڑی خطرناک بات ہے "واضح رہے اس وقت کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے پوری شدت اور قوت کے ساتھ ووٹ چوری کا ایشو اٹھایا ہے جبکہ دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی اس مہم میں بھر پور ساتھ دے رہی ہیں ، پارلیمنٹ کی کارروائی اس ایشو کو کے کر تعطل کا شکار رہی ـراہل ،تیجسوی کے ساتھ ان دنوں بہار کی یاترا پر نکلے ہیں اور ہر جلسے میں ‘ووٹ چور گدی چھوڑ’ کا نعرہ لگا رہے ہیں ،حال ہی میں یہ دونوں لیڈر مونگیر کی خانقاہ رحمانیہ گیے اور امیر شریعت مولانا ولی احمد فیصل سے ملاقات کی، ان کا "آشیرواد” لیا ،اس سے قبل رحمانی صاحب دہلی میں راہل سے ملاقات کرنے آئے تھے اور نیک خواہشات کا تبادلہ ہوا تھا ،جس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی تھیں
اس تمام صورتحال میں صدر بورڈ کا اپوزیشن کی کھل کر حمایت کرنا حالات کے لازمی تقاضہ کے تحت اس مشورے کو ناگزیر ہونے کی گواہی دیتا ہے یہ بتاتا ہے کہ علماء کے کانگریس سے تکلفات کے پردے جو بابری مسجد انہدام کے بعد اور دبیز ہوگیے تھے، دھیرے دھیرے ہٹ رہے ہیں ـ صدر بورڈ نے اس سے قبل ایسا کھلم کھلا حمایت کا ‘مشورہ’ نہیں دیا تھا ،ـ ان کی اپیل یا تحریک کیا اثر دکھاتی ہے یہ دیکھنا ہے ـ فی الحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ ان کی ذاتی رایے ہے یا بورڈ کا اجتماعی موقف ہے مگر بورڈ کے صدر کی طرف سے اتنی بڑی بات کو ذاتی تو ہرگز نہیں کہا جاسکتا








