نوٹ:’’ معروف عالم دین سیاسی طور پر متحرک شخصیت اور اتحاد ملت کے داعی مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے اسدالدین اویسی کے نام کھلا خط لکھ کر کچھ سیاسی مشورے دیے ہیں ۔پہلا سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ کیا مشورہ کھلا خط لکھ کر دیا جاتا ہے ؟گزشتہ دنوں اکھلیش سے ملاقات کے بعد ایسے کسی بھی مشورہ کی زیادہ اہمیت ہوجاتی ،حسب روایت سوشل میڈیا پر گرم بحث ہورہی ہے ایک وہاٹس ایپ گروپ پر مختلف دانشوروں نے بھی اپنے مشوروں اور رائے سے نوازا ہے افادہ عام کے لیے نذر قارئین کیا جارہا ہے،سیاس نبض سے آگہی کے لیے‘‘ (ادارہ)

……….
مولانا سجاد نعمانی صاحب کے خط کو پڑھا ، ان کا مشورہ صحیح ہے ، گٹھ بندھن کو مضبوط کیا جائے ، تاکہ وہ زیادہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے ، اس لئے کہ مسلمانوں پر طرح طرح سے حملے ہو رہے ہیں ،اب تو دھمکیاں بھی دی جانے لگی ہیں ،میں نے بہت پہلے یہ رائے پیش کی تھی کہ فرقہ پرستوں سے مقابلہ کے لئے گٹھ بندھن بنایا جائے ،تو بہت سے حضرات کو یہ گراں گزرا تھا ،بہر حال وقت گزر گیا ،مہا گٹھ بندھن نہیں بن سکا ،تو گٹھ بندھن بن گیا ہے ۔ حضرت مولانا نعمانی صاحب یو پی الیکشن میں گٹھ بندھن کو ووٹ دینے کا مشورہ دے ہیں،یہ صحیح ہے ،اور وقت و حالات کے مطابق ہے ،ووٹ کو منتشر ہونے سے بچانا ہماری ذمہ داری ہے ، گٹھ بندھن کے امیدوار کو ووٹ دیں ، اگر گٹھ بندھن کا امیدوار جیت کی پوزیشن میں نہ ہو تو فرقہپرست پارٹیوں کو چھوڑ کر جو جیتنے کی پوزیشن میں ہو،اس کے امیدوار کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں ، ایسے امیدوار کو ووٹ نہ دیں ،جو ووٹ کاٹنے کے لئے کھڑا ہو ،مسلم سماج کے ووٹ کی بڑی اہمیت ہے ، اس لئے اس کو باوزن بنانے کے لئے اپنے ووٹ کا استعمال صحیح کریں ،علماء اور دانشوروں سے بھی اپیل ہے کہ آپس میں اتحاد پیدا کریں ،اور ووٹ کو منتشر ہونے سے بچائیں ،جزاکم اللہ خیرا
ابوالکلام قاسمی شمسی
……….
مولانا سجاد نعمانی کو سیاست میں نہیں پڑنا چاہیے، علمی، دعوتی کام کریں، ہر کام ہر آدمی کو نہیں کرنا چاہیے۔خط کو عام کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن ہمارے بزرگ لوگ پرچار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نعمانی
……….
اس سلسلے میں کوئی بھی کوشش بیکار ہے اور وقت کا ضیاع ہے کیونکہ مخالف گروہ اتنا چالاک ہےکہ وہ اس کی آس لگائے بیٹھا ہےکہ کسی طرح ایسا موقع آئے اور وہ اپنے قبیلے کو اویسی کا ہوا دکھا کر سیکولر ووٹ کو اپنی طرف راغب کر سکے ۔ بہتر یہی ہےکہ دونوں اپنی اپنی راہوں پر چلیں اویسی صاحب کو صرف ایسی چند جگہوں پر جہاں ان کا گروپ مضبوط ہو نیز ان ریزرو سیٹوں پر ایسی صاف شبیہ والے امیدواروں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے جو مستقبل میں ان کی قیادت کو مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہو سکیں۔
ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی
……….
اسدالدین اویسی کو اگر سماجوادی پارٹی کی قیادت والے اتحاد میں شامل کیا جاتا ہے تو ہار جیت سے قطع نظر ایک بڑا اور موثر پیغام جائے گا، لیکن اتحاد میں شامل ہوئے بغیر اویسی اگر سماجوادی پارٹی کی قیادت والے اتحاد کے حق میں کوئی اعلان کرتے ہیں تو وہ گناہ بے لذت سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ یہی بچنا اور بچانا تو بتاتا ہے کہ مودی جی اور ان کے ہم نوا کم و بیش سبھی سیاسی پارٹیوں کو سمجھانے میں کامیاب ہیں کہ 80 فیصد کی بات کرو، اس میں جو جیت جائے وہی حکومت کرے اور اسی 80 فیصد کے حق میں کرے۔
اسفر فریدی
……….
اویسی صاحب کے تعلق سے ہمیں زیادہ بے چین ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بہار کا تجربہ بالکل سامنے ہے، اگر اچھے امیدوار ملیں گے تب ہی کچھ ممکن ہے ورنہ آزاد امیدوار سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں، یوپی کی سیاست میں صرف اویسی صاحب نہیں بلکہ مشرقی یوپی میں پیس پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایوب اور راشٹریہ علماء کونسل کے چیف مولانا عامر رشادی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، وہ مقامی سطح پر اثرانداز ہیں اور اس مرتبہ پوری طاقت کے ساتھ انتخابی میدان میں اترے ہیں، اویسی صاحب کو مسلمانوں کی اکثریت صرف انہیں دیکھنا اور ان کا بولنا پسند ہے، ووٹ دینے کے وقت مسلمان سیکولر بن جاتے ہیں۔ بی جے پی کی پالیسی کے مطابق کانگریس اور سماج وادی پارٹی سے زیادہ اویسی صاحب کو اپنا اپوزیشن بناکر پیش کرنا چاہتی ہے اور میڈیا اسی گائیڈ لائن کے مطابق اویسی صاحب کو کوریج بھی دیتی ہے، اویسی صاحب کی مخالفت کا میں قائل نہیں ہوں انہیں اپنا کام کرنے دیجئے اصل امتحان ان کا نہیں بلکہ یوپی کے مسلمانوں کا ہے مجھے لگتا ہے کہ تمام تر حالات کے باوجود جیسے بہار میں مسلمانوں کا جھکاؤ آر جے ڈی میں ہے اسی طرح یوپی کے مسلمان سماج وادی پارٹی کے ساتھ ہیں اور اسی میں خیر بھی ہے۔
شاہنواز بدر قاسمی
……….
اویسی اگر اس اتحاد میں شامل ہوجاتے تو لڑائی ہندو بنام مسلمان ہوجاتی جس سے سماجوادی پارٹی فی الحال بچنا چاہتی ہے۔
معصوم مرادآبادی
……….
ہماری ذہنی غلامی کی ایک علامات یہ بھی ہے کہ ہم صرف مسلم امیدوار اور مسلم پارٹی کو ہی ’’سیکولر ووٹ‘‘ کی تقسیم کا ذمہ دار مانتے ہیں۔
اطہر دہلوی
……….
یہ جھوٹا پروپیگنڈہ ہے جو ہمارے مزعومہ دانشور بنا کسی علم کے کرتے ہیں اور اس سے بھی آرایس ایس کو کیا فائدہ ہوتا ہے اس کا شاید ان علماؤں ودانشوروں کا اندازہ تک نہیں۔2017 میں مسلم سیٹوں پر 106 سیٹوں پر ایس پی ،بی ایس پی، کانگریس اور آر ایل ڈی کے تنہا مسلم امیدوار تھے اور مسلمانوں نے انہیں ووٹ دیاتھا وہ دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہارے تھے ۔بہت کم ووٹوں سے اور ان میں سے87 سیٹ بی جے پی جیتی تھی انہیں 12سیٹوں پر ان نام نہاد پارٹیوں کے ہندو امیدوار بھی جیتے تھے وہ بھی مسلم ووٹ تھے جو مسلم امیدوار کے بجائے ہندو امیدوار کو ملے تھے سیاست بھی ایک سائنس ہے جن کو اس کا علم نہیں ہے وہ اس کے مشیر نہ بنیں تو زیادہ بہتر ہے،ویسے جمہوریت میں سب کو سب حق حاصل ہیں، صحیح کریں یا غلط ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب نہ یہ پارٹیاں دیتی ہیں اور نہ ان سے کوئی پوچھتا ہے۔
ڈاکٹر تسلیم رحمانی
……….
دیکھئے زیادہ دماغ لگانے کی ضرورت نہیں ہے، ترجیحات سیٹ کیجئے، معاملات خود بخود کلیئر ہوجائیں گے، جب لڑائی شناخت بچانے کی ہو تو مکمل ایک قوم کو ایک ہی لائن میں مان کر ٹریٹ کرنا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنا ہے، آپ سیاسی اچھوت بن چکے ہیں، اس کو قبول کیجئے، اور کنگ میکر کے زعم سے نکلئے، فی الحال آپ کے لئے ضروری ایسی سرکار ہے جو آپ کے زبان کھولنے پر این ایس اے نہ لگائے، جس کو آپ کی صحافت سے پرابلم نہ ہو، جو آپ کے احتجاج کرنے پر نہ تو آپ کو لاٹھی مارے اور نہ ہی آپ کی جائیداد ضبط کرے، آپ سے مائیک نہ چھینے، آپ کی یونیورسٹی کا گیٹ نہ توڑے، آپ کے سامنے انسٹی ٹیوشن کے بچانے کا مسئلہ ہے، لاء اینڈ آرڈر صحیح ہونے کا مسئلہ ہے، ہندوستان کا ’’جمہوریہ، اور سیکولر‘‘ باقی رہنے کا مسئلہ ہے، سیاسی مشارکت کا معاملہ تو بہت بعد میں آتا ہے، فی الحال آپ کا زندہ رہنا لازمی ہے، آپ کا ماب لنچنگ سے بچنا لازمی ہے، بحیثیت قوم آپ کے مینٹل ہیلتھ کا معاملہ ہے، ہوا کا رخ بدل رہا ہے،آپ یا تو خاموشی اختیار کرلیجئے یا الٹے سیدھے تجزیے پیش کرکے قوم کو مت بہکائیے، خود میں نے مظالم پر ہندؤوں کی خاموشی سے دلبرداشتہ ہوکر اویسی کی حمایت میں اپنے ٹائم لائن پر خوب لکھا ہے، لیکن مجھے اس بات کے اعتراف میں کوئی پریشانی نہیں ہے کہ اویسی ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل نہیں ہیں، ان کی سیاست خلیج کو مزید گہرا کرے گی، ابھی انہیں اپنی جذباتیت پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، ہندوستان کا حل ہندو مسلم بائنری نہیں ہے، شریعت نے آپ کو اخف الضررین کو اپنانے کا فارمولہ دیا ہے، زیادہ کنفیوزن کا شکار مت ہوئیے، اور اسی فارمولے پر عمل کیجئے، یقین مانئے اگر اترپردیش کی ہوا بدل گئی تو پورے ملک کی سیاست میں زبردست تبدیلی دیکھنے کو ملے گی، اترپردیش کی اپنی ایک حیثیت ہے، اسے ذہن میں رکھئے، اور ہندوستان کے مستقبل کو بدلنے کی کوشش کیجئے۔
مولانا محمد طاہر مدنی
……….
مولانا نعمانی صاحب نے اچھا مشورہ دیا ہے اویسی صاحب کے تناظر میں اوم پرکاش راج بھر کی بات بھی ٹھیک ہے آپ دس سیٹ پر لڑیں اور جیت جائیں یہ بہتر ہے بمقابلہ سو سیٹ لڑنے اور ہارنے سے۔ مولانا نعمانی صاحب کے تعلقات اکھلیش سے بھی اچھے ہیں اور اویسی صاحب سے بھی وہ بیچ میں پڑ کر اویسی صاحب کو مہاگٹھ بندھن کا ایک حصہ بنوا سکتے ہیں۔









