نئی دہلی :
رنجیت نگر میں ڈاکٹر کی کلنک پر بچی کو دوائی دلوانے آئے نوشاد ملک کو کچھ دبنگوں نے بہت بری طرح سے زدوکوب کیا تھا، معاملہ اسکوٹی میں ٹکر مارکر گرانے کا تھا۔ دراصل نوشاد نے اپنی اسکوٹی کلنک کے سامنے کھڑی کی تھی راستے سے کارلے کر جارہے علاقے کے کونسلر کے بھتیجے نے اسکوٹی کو گرادیا جس کو لے کر نوشاد نے سمجھانے کی کوشش کی تو اچانک نوشاد کو مارنا شروع کردیا اور اسی پربس نہیں کیا بلکہ کار کھڑی کرکے کچھ اور دبنگوں کو ساتھ لے کر دوبارہ سے بے ہوش پڑے نوشاد کو اینٹ پتھروں سے زد وکوب کیا۔ شوہرکو چھڑانے آئی بیوی کو بھی نہیں بخشا۔
اس سلسلے میں صدرصدر جمعیة علماءہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر مفتی عبدالرازق جنرل سکریٹری صدر جمعیة علماء دہلی کی قیادت میں ایک وفد نے نوشاد ملک کے اہل خانہ بیوی اوربھائی وغیرہ سے بی ایل کپور ہاسپٹل جاکر تفصیلی ملاقات کی اور ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے بعد رنجیت نگر تھانے جاکر ایس ایچ او سے ملاقات کی اور خاطیوں کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا ۔ایس ایچ او نے وفد کی تمام باتوں کو بغور سنا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔واضح رہے کہ تین ملزمین کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
وفدنے رنجیت نگر جائے حادثہ کا بھی معائنہ کیا اور کلنک جاکرحادثہ کے چشم دید ڈاکٹر صاحب سے بھی تمام معلومات لیں اور علاقے کی جامع مسجد جاکر وہاں کے ذمہ داران اور سنجیدہ حضرات سے ملاقات کرکے ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی، ساتھ ہی ساتھ علاقے میں امن وامان بنائے رکھنے بھی اپیل کی اور پھر دوبارہ سے ایس ایچ او کو تمام حالات سے آگاہ کراکر غیر جانبداری سے انصاف کا اور ملزمین کے خلاف سخت سے سخت سزا کا مطابہ کیا۔ وفد میں مفتی عبدالرازق مظاہری ناظم اعلیٰ جمعیة علماء دہلی، قاری محمد ساجد فیضی ناظم جمعیة علماءدہلی، چودھری محمد اسلام رکن جمعیة علماءدہلی شامل تھے۔











