نئی دہلی :
مودی حکومت کی دوسری پاری کی تقریباً آدھی مدت پوری ہو چکی ہے اور جس وقت اس حکومت کی آدھی مدت پوری ہوچکی ہے، اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ کو نئی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ اس میں جہاں 15 لیڈروں کو کابینہ کے وزیر کے طور پر حلف دلایا گیا ہے ،وہیں 28 کو وزیر مملکت کے طور پر حلف دلایا گیا ہے۔
اس کابینہ توسیع سے پہلے مودی کے کئی سرکردہ وزراء کا استعفیٰ لے لیا گیا ہے جس میں اہم وزارتیں شامل ہیں۔ مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ اہم وزراء کا استعفیٰ حکومت کا اپنی خراب کارکردگی کا اعتراف ہے۔
راشٹرپتی بھون میں کووڈ پروٹوکول کے پیش نظر منعقدہ حلف برداری تقریب میں مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ نارائن رانے نے سب سے پہلے حلف لیا ہے، جبکہ آسام کے سابق وزیر اعلیٰ سروا نند سونے وال نے دوسرے نمبر پر حلف لیا ہے۔ تیسرے نمبر پر مدھیہ پردیش سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ویریندر سنگھ نے حلف لیا۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ جیوتی رادتیہ سندھیا نے چوتھے نمبر پر حلف اٹھایا۔ رام چندر پرساد سنگھ اور لوک جن شکتی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور چراغ پاسوان کے چچا پشوپتی کمار پارس نے بھی مرکزی وزیر کے طور پر حلف اٹھایا۔
جنتا دل ( یو) کے قومی صدر آر سی پی سنگھ، اشونی ویشنو کو بھی کابینی وزیر کے طور پر حلف دلایا گیا۔ اب تک وزیر مملکت برائے کھیل امور کی ذمہ داری سنبھال رہے کرن رجیجو نے بھی کابینی وزیر کے طور پر حلف لیا ہے۔ ان کے کاموں کی اکثر تعریف کی جاتی رہی ہے۔ اب انہیں پروموٹ کرکے کابینی وزیر بنایا گیا ہے۔ جے کشن ریڈی اور انوراگ ٹھاکر کو بھی کابینی وزیر کا حلف دلایا گیا ہے۔ ان دونوں لیڈروں کا بھی پروموشن ہوا ہے۔ اب تک وہ ریاستی وزیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔
اس دوران اترپردیش سے پٹیل براداری کی نمائندگی کرنے والی انوپریا پٹیل اور نئی دہلی سے رکن پارلیمنٹ میناکشی لیکھی کو ریاستی وزیر کے عہدے کا حلف دلایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ پنکج چودھری اور ایس پی سنگھ بگھیل کو ریاستی وزیر کا حلف دلایا گیا۔ اترپردیش کے مہاراج گنج سے رکن پارلیمنٹ پنکج چودھری سمیت ریاست کے 7 اراکین پارلیمنٹ کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔
مودی کابینہ میں توسیع کے ساتھ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر اور روی شنکر پرساد نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ پرکاش جاوڈیکر اطلاعات ونشریات کی وزارت کے ساتھ ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت سنبھال رہے تھے۔ وہیں روی شنکر پرساد کے پاس قانون اور آئی ٹی وزارت کا ذمہ تھا۔ ان دونوں وزراء کے استعفیٰ کے بعد اب کابینہ سے استعفیٰ دینے والے وزرا کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ان دونوں سینئر وزرا سے قبل ڈاکٹر ہرش وردھن، سنتوش کمار گنگوار، رمیش پوکھریال نشنک، بابل سپریو، سدانند گوڑا اور دیبوشری چودھری اور رتن لال کٹاریہ سمیت 11 وزراء نے بدھ کے روز اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں سنجے دھوترے، تھاور چند گہلوت اور راو صاحب پاٹل، پرتاپ سارنگی کا نام بھی شامل ہے۔
اطلاع کے مطابق بتایا کہ رمیش پوکھریال نشنک نے صحت سے متعلق وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے۔ نشنک کچھ وقت پہلے ہی کووڈ-19 سے متاثر ہوگئے تھے۔ ٹھیک ہونے کے بعد انہیں دوبارہ صحت سے متعلق پریشانیوں کے مد نظر اسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے کابینہ سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی۔









