نئی دہلی:
’دھارمک جن مورچہ‘ کے زیر اہتمام75ویںیوم آزادی کے موقع پر ’ملک کے لوگوں کے لئے مذہبی رہنماؤں کا پیغام‘ کے عنوان پر ایک آن لائن پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مذہبی پیشواؤں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ’ دھارمک جن مورچہ‘ مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد باہمی محبت، ہم آہنگی، رواداری، جمہوری اقدار کو فروغ دینا اور انسانیت کی بنیاد پر ملک کی تعمیر اور باہمی تعاون اور بھائی چارے کو مضبوط بنانا ہے۔
اس موقع پر شنکر اچاریہ سوامی اومکار آنند جی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہمیں غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم اس آزادی سے مکمل طور پر مطمئن ہیں؟شاید ملک کو ابھی اور بھی آزاد ہونا اور اور ایک ایسے بھارت کی تشکیل دینا باقی ہے جہاں مذہب کے نام پر کسی کے ساتھ برا سلوک روا نہیں رکھا جائے۔ آزادیکا صحیح مطلب تبھی ہوگا جب سبھی کو وہ آزادی ملے جو آئین نے ہمیں دیا ہے۔ہمیں راستہ چلتے ہوئے ڈر نہ لگے،کوئی ہندو یا مسلم کسی سے ڈرے نہیں اور کسی کو کسی دوسرے مذہب کے پڑوسی سے پریشانی نہ ہو“۔
گوسوامی سشیل جی مہاراج، کنوینر بھارتیہ سرو دھرم سنسد نے کہا کہ سب کا احترام کرنا ہمارا فریضہ ہے۔کیونکہ آزادییہ نہیں ہے کہ کسی کے مذہب کو برا کہا جائے اور کسی بھی مذہب کی بے عزتی کی جائے۔مٹھی بھر لوگ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے جذبات کو اپنے کردار اور الفاظ سے مجروح کرتے ہیں، ہمیں افسوس ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائینہیں کی جاتی۔گزشتہ دنوں وزیر اعظم کے ساتھ مذہبی پیشواؤں کی ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری اچھی گفتگو ہوئی لیکن ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ جولوگ ملک میں ایک دوسرے پر حملہ کررہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے“۔
گردوارہ بنگلہ صاحب کے چیف گرنتھی گیانی رنجیت سنگھ نے کہا کہ ہم نے انگریزوں سے تو آزادی لے لی لیکن آزادی لیتے ہوئے ہم آپس میں تقسیم ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے ہم ملک کو ایک ساتھ رہنے کا پیغام دیتے ہیں۔ تمام ہم وطن ایک ساتھ مل کر رہنا سیکھ سکتے ہیں“۔ سوامیویر سنگھ ہتکاری، روی داسیہ دھرم سنگٹھن کے ذمہ دارنے کہا کہ ذات پات ملک میں ایک بڑا مسئلہ ہے اورہمیں اس سے بھی آزادی حاصل کرنی ہوگی“۔
پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے اچاریہ ویویک مونی جی نے کہا کہ لفظ آزادی بہت خوبصورت اور خوشگوار ہے۔لیکن کسی شخص کی آزادی تب ہی معنی خیز ہوتی ہے جب وہ اپنے حدود میں رہتے ہوئے اس کا استعمال کرے اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے مذہب کو آزادانہ طور پر اختیار کرے۔ہم سب ہندوستانی ایک خاندان کی طرح ہیں۔ہم کسی کو تکلیف دیتے ہیں تو یہ مذہب کا عمل نہیں ہوسکتا“۔
پروگرام کے اختتام پر’مورچہ‘ اور اس پروگرام کے کنوینر پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ مورچہ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ تمام لوگ محبت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین نے ہمیں اتحاد، انصاف اور مساوات کا حق دیا ہے۔ بعض اوقات اس خیال کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ایسی صورت میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں آئین کی بنیادی روح قائم کرنے کو یقینی بنائے۔
دہلی اور کانپور میں ہوئے فرقہ وارانہ کشیدگی کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ جرم، ناانصافی اور استحصال کو دیکھ کر خاموش ہیں، وہ تمام لوگ بالواسطہ جرم کے حامی ہیں۔ ہمیں برے کو برا کہنا چاہئے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ملک کے کمزور اور غریب ترین شخص کو عزت کے ساتھ جینے کا موقع نہیں ملے گا، ہم آزادی کو صحیح معنی میں سمجھنے سے قاصر رہیں گے“۔ پروگرام میں 75 ویںیوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے تمام مذہبی رہنماؤں نے ’دھارمک جن مورچہ‘ کے خیالات کو عام لوگوں تک پہنچانے کی اپیل کی۔











