پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جاری ہے۔ بہار کے ایس آئی آر SIRکو لے کر ایوان سے سڑکوں تک لڑائی جاری ہے۔ دریں اثنا، اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی نے راشٹرپتی بھون میں صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔ پی ایم مودی کی ملاقات کے چار گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ صدر سے ملنے راشٹرپتی بھون پہنچ گئے۔
نیوز پورٹل آج تک کی رپورٹ کے مطابق پی ایم مودی اور امت شاہ کی صدر سے ملاقات نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے۔ صدر کے ساتھ ان کی بات چیت کی تفصیلی معلومات منظر عام پر نہیں لائی گئیں لیکن دونوں رہنماؤں کے قد کاٹھ کو دیکھتے ہوئے اس ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اقتدار کے دو طاقتور ترین چہرے صدر سے الگ الگ مل رہے ہیں؟ وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے صدر دروپدی مرمو سے ایسے وقت میں ملاقات کی جب اگلے نائب صدر کے انتخاب کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ بہار میں الیکشن کمیشن کے اسپیشل انٹینسیو ریویو (SIR) کے عمل پر اپوزیشن مسلسل سوال اٹھا رہی ہے۔ ایسے میں کیا اس ملاقات کا 5 اگست سے کوئی تعلق ہے، کیوں کہ سوشل میڈیا پر مودی-شاہ کی صدر سے ملاقات کو جوڑا جا رہا ہے۔واضح ہو دلچسپ بات ہے کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کل بہت بڑی پریس کانفرنس کرنے جارہے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے لیے ووٹ بتارہا ہے جس سے نتائج متاثر ہوئے ہیں ان کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت ہیں
پی ایم مودی اور صدر مرمو کے درمیان ملاقات کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اس سلسلے میں نہ تو راشٹرپتی بھون اور نہ ہی وزیر اعظم کے دفتر نے اس معاملے کے بارے میں کوئی اطلاع دی ہے جس میں یہ میٹنگ ہوئی تھی۔ ایسے میں امت شاہ اور صدر کے درمیان ملاقات نے سیاسی ہلچل تیز کر دی ہے۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسی ملاقاتیں عام نہیں ہوتیں۔ عام طور پر جب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ صدر سے ملتے ہیں تو یہ یا تو رسمی ملاقات ہوتی ہے یا وہ کسی خاص موقع پر اکٹھے جاتے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کا ایک ہی دن اور چند گھنٹوں کے فرق سے صدر سے ملاقات کرنا معمول کی بات نہیں ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں اور سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ حکومت کوئی بڑا فیصلہ لینے یا کوئی قدم اٹھانے پر غور کر رہی ہے۔ مانسون سیشن کے پہلے دن ہی جگدیپ دھنکھڑ نے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بارے میں کچھ بات چیت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ایسا مانا جا رہا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں ایک بڑا بل لانے والی ہے، جس کے بارے میں پی ایم مودی اور وزیر داخلہ صدر کو مطلع کرنے پہنچ گئے ہیں۔ تاہم اس ملاقات پر حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم یہ بات یقینی ہے کہ حکومت کچھ بڑا کرنے جا رہی ہے۔
**5 اگست سے صدر مملکت سے ملاقات کا کنکشن!
صدر دروپدی مرمو کے ساتھ مودی-شاہ کی ملاقات کو 5 اگست سے جوڑا جا رہا ہے۔ حکومت 5 اگست کو کوئی اہم بل لا رہی ہے، کیونکہ 5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد 5 اگست 2020 کو پی ایم مودی نے ایودھیا میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔
مودی حکومت نے 5 اگست کو ملک میں دو تاریخی فیصلے لیے، جس کی وجہ سے 5 اگست کی تاریخ اپنے آپ میں خاص ہو گئی۔ ایسے میں پی ایم مودی اور امت شاہ کی صدر سے ملاقات کی وجہ سے 5 اگست کی بحث تیز ہو گئی ہے کہ حکومت کسی بڑے آئینی یا سیاسی فیصلے پر غور کر سکتی ہے، چاہے یہ کوئی اہم تقرری ہو یا صدر کی سطح پر کوئی فیصلہ۔
پارلیمنٹ میں کئی حساس بلوں کو پیش کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، جن میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) لانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ دھامی حکومت نے اتراکھنڈ میں یو سی سی کو نافذ کیا ہے۔ آسام اور گجرات کی بی جے پی حکومتوں نے یو سی سی کو ریاستی سطح پر لانے کا اعلان کیا ہے۔ پی ایم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی یو سی سی کے بارے میں بات کی ہے۔ یو سی سی بی جے پی کے بنیادی ایجنڈے کا ایک حصہ رہا ہے، جس میں رام مندر کی تعمیر اور جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کا خواب پورا ہوا ہے۔ صرف یو سی سی رہ گئی ہے جس پر عمل درآمد ہونا ہے۔ آج تک کے ان پٹ کے ساتھ







