نئی دہلی :
امریکی اخبار ’ دی نیویارک ٹائمز‘ نے کہا ہے کہ بھارت میں موجودہ نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی پالیسیاں بولنے کی آزادی پر سنگین سوال کھڑے کررہی ہیں۔
نیوزپیپر کی جانب سے یہ تبصرہ صحافیوں کی بھرتی کے اشتہار سے جڑے تفصیلات میں کیا گیا۔ پروفیشنل نیٹ ورکنگ سائٹ’ لنکڈان ‘ پر این وائی ٹی (NYT)کے ہینڈل سے ساؤتھ ایشیا بزنس کارسپانڈینٹ (نئی دہلی میں)کے لیے ایڈ نکالا گیا ۔ جاب تفصیلات والے سیکشن میں کہاگیا ہے ’’ بھارت جلد ہی چین کو آبادی کے معاملے میں پیچھے چھوڑ دے گا اور عالمی منچ پر ایک بڑی آواز جیتنے کی کثیر المقاصد رکھتا ہے ، اپنے کرشمائی وزیر اعظم نریندر مودی کے تحت بھارت ایشیا میں چین کی معاشی اور سیاسی اونچائی کو حریف بنانے کے لئے آگے بڑھ گیا ہے ، ایک ناٹک جو ان کی پرامن کشیدگی سرحد پر اور پورے سیکٹر میں قومی دارالحکومت کے اندر چل رہاہے ۔ ‘‘

مزید لکھا گیا :’’ مقامی طور پر ہندوستانی طبقہ اور دولت کی عدم مساوات کے مشکل سوالات سے دوچار لوگوں اور زبانوں کا پگھلنے والا برتن ہے۔ اس میں ایمیزون، وال مارٹ اور دیگر بڑی عالمی کمپنیوں کے ذریعہ معتبر ایک تعلیم یافتہ اور کثیر المقاصد متوسط طبقہ ہے ۔ ہندوستانی بزنس ٹائکون کے ایک نئے طبقے نے وال اسٹریٹ اور لندن میں شائقین کا دل جیت لیا ہے ۔ پھر بھی کروڑو ں لوگ اپنے بچوں کے بہتر زندگی کے لیے جد وجہد کررہے ہیں اور بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ٹھپ ہونے کے اشارے دے رہی ہے ۔ ‘‘
اشتہار میں یہ بھی کہا گیا،’’ہندوستان کا مستقبل اب چوراہے پر کھڑا ہے۔ مودی، ملک کے ہندو اکثریت پر مبنی ایک خودانحصاری ،باہوبلی راشٹر واد کی وکالت کررہے ہیں۔ یہ ویژن انہیں جدید بھارت کے قیام کے بین المذاہب ، کثیر الثقافتی اہداف سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ آن لائن تقریر اور میڈیا مباحث کو دبانے سے جڑے سرکار کی بڑھتی کوششوں نے آزادانہ تقریر سےتحفظ اور رازداری کے امور کو متوازن رکھنے کے بارے میں مشکل سوالات اٹھائے ہیں، ٹیکنالوجی ایک مدد اور رکاوٹ دونوں ہے۔









