نئی دہلی:(ایجنسی)
افغانستان میں طالبان کے قبضے کو لے کر ہندوستان میں سیاسی بیان بازی شروع ہوگئی ہے۔ ہندوستان اور افغانستان کے حالات کا موازنہ کئے جانے پر مرکزی وزیر شوبھا کرندجالے نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسدالدین اویسی کو افغانستان بھیج دینا بہتر ہے۔ اس سے پہلے ایک پروگرام کے دوران اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت کو لے کر کہا تھا کہ ہندوستان میں خواتین پر ظلم ہو رہے ہیں، لیکن وہ افغانستان کی فکر کر رہے ہیں۔
صحافیوں سے بات چیت کے دوران مرکزی وزیر شوبھا کرندجالے نے کہا، ’اویسی کو ان کی خواتین اور برادری کا تحفظ کرنے کے لئے افغانستان بھیج دینا بہتر ہے‘۔ اس ہفتے وزیر اعظم نریندر مودی نے حکومت میں سینئر افسران کو حکم دیا تھا کہ ہندوستان صرف افغانستان کے شہریوں کا ہی تحفظ نہیں کرے گا، بلکہ یہاں آنے کی خواہش رکھنے والے سکھ اور ہندو برادری کے اقلیتوں کو پناہ بھی دے گا۔
اسدالدین اویسی نے کہا تھا، ’ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں 9 میں سے ایک بچی کی موت 5 سال کی عمر سے پہلے ہوجاتی ہے۔ یہاں خواتین پر ظلم اور جرائم ہوتے ہیں۔ لیکن، وہ (مرکزی حکومت) ہیں کہ افغانستان میں خواتین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کیا یہاں نہیں ہو رہا ہے‘؟ گزشتہ اتوار کو ہی طالبان نے افغانستان میں اپنی جیت کا اعلان کر دیا تھا۔ تقریباً دو دہائی کے بعد طالبان کے اقتدار میں لوٹنے سے خوفزدہ کئی افغانی شہری مسلسل ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔
ہندوستان نے ان افغان شہریوں کے لئے ایمرجنسی ای – ویزا خدمات شروع کی ہے، جو ہندوستان آنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی افغانستان سے واپسی سے متعلق درخواستوں میں مدد کرنے کے لئے 24×7 اسپیشل افغان سیل کی شروعات کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، 15 اگست کو کابل پر طالبان کا کنٹرول ہونے سے پہلے تقریباً 1650 ہندوستانیوں نے واپسی کی خواہش ظاہر کی تھی۔









