نئی دہلی:
تولین سنگھ نے انڈین ایکسپریس میں پوچھا ہے کہ کیا وزیر اعظم نے ہندوستان کو مغربی بنگال کے لئے داؤ پر لگا دیا تھا؟ فروری میں ہی یہ جاننے کے باوجود کہ مہاراشٹر میں کورونا کی ایک نئی شکل اور نئی لہر آچکی تھی ، الیکشن کمیشن نے آٹھ مرحلوں میں انتخابات کرانے کا فیصلہ لیا۔ 17 اپریل کو ڈھائی لاکھ کے فعال معاملے ہونے پر کم وقت میں الیکشن کرانے کی مانگ دہرائی گئی لیکن اسے بھی ٹھکرایا دیا گیا۔
وزیر داخلہ مسکرا-مسکرا کرکہہ رہے تھے کہ اگر انتخابی مہم کی وجہ سے وبا پھیل رہی ہے تو مہاراشٹر میں کیوں پھیل رہی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دیدی ہار رہی ہے ، اسی لئے وہ یہ کہہ رہی ہے۔
تولین کہتی ہیں کہ دہلی میں دوسری لہر پہنچتے ہی آئی سی یو میں لوگ دم توڑنے لگے، اسپتالوں کے باہر بیڈ نہیں ملنے کی وجہ سے لوگ مرنےلگے اور شمشان گھاٹوں میں لاشوں کی لائنیں لگ گئیں۔ جنہوںنے یہ منظر دکھانے کی کوشش کی، انہیں گدھ کہا جانے لگا۔ انتخابات میں ہار کے بعد دکھائے جانے والی عاجزی بھی بی جے پی نے نہیں دکھائی اور جے پی نڈا بنگال پہنچ گئے۔ بی جے پی کے ٹرول سینا نے جلتے ہوئے گھروں اور ہجومی تشدد کی جھوٹی تصاویر نشر کرنی شروع کردی ۔








