اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جوہریونیورسٹی پکاررہی ہے!!!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
جوہریونیورسٹی پکاررہی ہے!!!
241
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

از:مدثراحمد

رامپورکی محمد علی جوہر یونیورسٹی اس وقت خطرے کے نشان پر ہے۔جوہر یونیورسٹی آزادی کے بعد ملک میں قائم ہونےوالی ایسی پہلی یونیورسٹی ہے جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طرز پر بنائی گئی تھی۔بُرانہ مانیں ،اس یونیورسٹی اور حالات حاضرہ کے تعلق سے اس مضمون میں جو کچھ لکھاجارہاہے اور جو بولا جارہاہے وہ بھلے ہی کڑوا سچ ہے،لیکن اس کڑوے سچ کو سماج کو قبول کرناہی ہے،خصوصاً مسلم سماج کو اس معاملے میں غورکرنے کی ضرورت ہے۔

آزادی کے بعد قائم کی گئی اگر کوئی عالیشان وہ دانش گاہ بنائی گئی ہے تووہ جوہر یونیورسٹی ہے۔جو ہر یونیورسٹی کے تعلق سے مسلسل مسلم سماج میں یہ رائے سامنے آرہی ہے کہ یہ یونیورسٹی نجی یونیورسٹی ہے،اعظم خان کی یونیورسٹی ہے،اس کافائدہ ونقصان اعظم خان کو ہوگا،یہ اعظم خان و اس کے اہل خانہ کی ملکیت ہے،اس لئے اس یونیورسٹی کے خلاف اگر قانونی کارروائی ہورہی ہو تو اس کیلئے خود اعظم خان ہی مقابلہ کرلیں،عام مسلمانوں کو اس میں مداخلت کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔

یقیناً یہ یونیورسٹی اعظم خان کی ہے اوراس کا فائدہ ونقصان اس کے اہل و عیال کو ہی ہوگا۔کچھ لوگوں کا کہناہے کہ اعظم خان نے اوقافی املاک پر قبضہ کرتے ہوئے یونیورسٹی بنائی ہے،یاپھر ملت اسلامیہ کی املاک کو ہڑپنے کی کوشش کی ہے۔بعض منفی سوچ رکھنے والے اہل علم حضرات کا کہناہے کہ اعظم خان نے یہ یونیورسٹی دنیاوی تعلیم کیلئے بنائی ہے اور دین کی تعلیم سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔جوہر یونیورسٹی غیروں کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کیلئے بھی کانٹے سے کم نہیں ہے۔

قوم میں یہ رونا رویاجارہاہے کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کی طرف سےایک بھی یونیورسٹی ملک میں قائم نہیں ہوئی ہے اور مسلمان تعلیم کے میدان میں پیچھے ہیں۔

چلئے اب جواب دیتے ہیں مندرجہ بالااُن تمام سوالات اور الزامات کا جو ہمارے اپنے ہی اٹھارہے ہیں۔سب سے پہلا الزام یہ ہے کہ اعظم خان نے جو یونیورسٹی بنائی ہےاُس کا فائدہ ونقصان اُس کے اہل وعیال کو ہوگا،اس سے قوم کاکوئی سروکار نہیں ہے۔ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ اعظم خان نے اپنوں کیلئے ہی یہ یونیورسٹی بنائی ہوگی اور اس کے مالکان اس کے اہل وعیال ہی ہوںگے،لیکن اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنےو الاطبقہ سب سے زیادہ مسلمانوں کا ہی ہے اورمسلمانوں کے ہی زیادہ تر اساتذہ ودیگر املاک یہاں درس وتدریس سمیت دیگر خدمات پر مامور ہیں، تو بتائیے کہ جوہر یونیورسٹی کا فائدہ اعظم خان اور اس کی بیوی کو ہورہاہے یا پھر ملت اسلامیہ کو؟۔

رہی بات اس املاک کی، ملک میں کئی ایسے اوقافی ادارےہیں جن پر علماء، دانشوران، سیاستدان ، دلت، برہمن،یادو یہاں تک کہ خود حکومت بھی قبضہ جمائے ہوئے ہےاور وقف کی املاک پر ہوٹل،لاڈج،بار، کمپنیاں، چندہ وصولی کرنے کا دھندہ کرنے والے کچھ مدرسے، وراثت کی شکل میں چلائے جانے والے مدرسے،خاندانی مسجدیں بنائے ہوئےہیں،باپ کے بعد بیٹا مہتمم وہ ایسے مدرسے قائم کئے گئے ہیں تو کیا ان اداروں،کاروباری مراکز پر قومِ مسلم سوال نہیں اٹھائےگی؟۔

اگر اعظم خان کے چہرے پربھی داڑھی، لباس جبہ،سر پر ٹوپی ڈالے ہو تواور یونیورسٹی کے بجائے ایک مدرسہ بنایاہوتا تو آج قوم مسلم تلملاجاتی اور پورے ملک میں یہ ہنگامہ ہوتاکہ مدرسے کے دروازے پر بلڈوزر چلانے کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یونیورسٹی میں دنیاوی تعلیم دی جارہی ہے،نہ کہ دینی تعلیم وہاں کا مرکز ہے، تو یہ جان لیں کہ تعلیم کو دنیاوی اور دینی زمروں میں تقسیم کرنے والے ہم ہی ہیں۔ خدانے اپنی مقدس کتاب میں انسانوں کو اقراء کے ذریعے پڑھنے کاحکم دیاہے اور پڑھائی کے تعلق سے دینی ودنیاوی تعلیم کے زمروں کو خدانے نہیں بنایاہے۔ہم نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے تعلیم کا بٹواراکیاہے۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب کسی مدرسہ پر صرف الزام لگایاجاتاہے تو پوری قوم پریشان ہواٹھتی ہے اور اس کے تحفظ کیلئے جابجا میمورینڈم دئیے جاتے ہیں،جابجا جلوس نکالے جاتے ہیں،اسٹیج سے لیکر سے منبر تک تحفظ مدارس کی آواز بلند ہوتی ہے،لیکن جو ہر یونیورسٹی کاقصور کیاہوگیا جو قوم مسلم اس یونیورسٹی پر خطرے کے بادل منڈلانے کے باوجود خاموشی اختیار کررہی ہے۔

جو ہر یونیورسٹی تو ایک بنیادہے تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کیلئے۔ یہ آغاز ہے مسلمانوں کے اُن تمام تعلیمی اداروں کوختم کرنے کا،یہاں سے مسلمانوں کے بچے تعلیم یافتہ ہوکرنکل رہے ہیں۔پہلے بابری مسجد کو شہید کرکے دیکھاگیاکہ کس طرح سے مسلمانوں کا ردِ عمل ہوگا۔جب محسوس ہواکہ یہ چار دن کی چاندی ہے،پھر مسلمان خاموش ہوجائیں گے، تو اس کے بعد کاشی، متھرا، گیان واپی سے لے کر گجرات و دہلی کے مساجد کی تہہ میں مندروں کی تلاشی شروع ہوئی وہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

پھر مسلم پرسنل لاء پر ہاتھ ڈالاگیا،پہلےطلاق ثلاثہ کا مدعہ اٹھایاگیاتو صرف چند ایک جماعتیں اس مدعے کو لیکر اُٹھ کھڑی ہوئیں، باقی ساری قوم اطمینان سے سوتی رہی۔اسے دیکھ کر فرقہ پرست حکومتوں نے فائدہ اٹھاکر قانون بنایا،پھر لوجہا د کا مسئلہ اٹھایا،پھر قانون بنا ، اب یکساں سول کوڈ کا مدعا زیر بحث ہے اور ہماری خاموشی فرقہ پرستوں کیلئے راہیں آسان کرنے والی بات ہوگی۔

کچھ عرصہ قبل مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کے مراکز بتائے گئے تھے،مگر جیسے ہی سارے ملک میں اس نظام کے رد میں تحریک شروع ہوئی تو سنگھیوں نے مدارس پر سے شکنجہ کسنا چھوڑدیا۔مگر ان کی نظروں میں وہ نسل ہے جواعلیٰ تعلیم یافتہ ہورہی ہے،اسی لئے یہ فرقہ پرست پبلک سروس کمیشن میں مسلمانوں کی شمولیت کو سروس جہاد کا نام دے رہے ہیں۔ جب اس پر بھی انہیں ملک کے غیر مسلم دانشورطبقے کی جانب سے سرزنش ہوئی تو یہ لوگ اب سیدھے مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کی طرف ہاتھ ڈالنے کی پہل کی گئی ہے جس کی شروعات جو ہر یونیورسٹی سے ہوئی ہے۔

ممکن ہے کہ کل یہ ہاتھ اے ایم یو،ہمدرد، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،مولاناآزاد یوینورسٹی، الامین تعلیمی تحریک،دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی سمیت ہر اُس مسلم تعلیمی ادارے پر شکنجہ کساجائیگا جہاں پر ہماری نسلیں تعلیم حاصل کرینگی۔یہاں بات عصری یا دینی تعلیم کی نہیں ہے بلکہ بات اُن تعلیمی اداروں کی ہے جو مسلمانوں کے تحت مسلمانوں کیلئےمسلمانوں نے قائم کئے ہیں۔آج اعظم خان ہوسکتے ہیں تو کل کوئی اور نشانہ ہوگا۔ اس لئے اس سنگین مرحلے میں مسلم تنظیموں واداروں کو آگے آنا ہوگا۔اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح سے حکومتوں کو مسائل سے آگاہ کرنے اور حکومت کی غلطی کو بتانے کیلئے کس طرح سے مکتوب لکھے جاتے ہیں،کس طرح سے پریس کانفرنس کئے جاتے ہیں اور کس طرح سے وفد کی شکل میں ایوانِ اقتدار سے ملاقاتیں کرتے ہیں،لیکن ہمارے پاس موجود اہل علم کا طبقہ ،تنظیموں کے گروہ اور ملت اسلامیہ کےدردمندوں کے جھنڈ لاتعداد موجودہیں،ہمارے پاس امام الہند بھی ہے،نبیرہ ملت بھی ہے،ہمارے پاس شعلہ بیان مقررین بھی ہیں اور ہر ریاست میں شیر دل خطیب بھی ہیں،ہمارے پاس اہل مناظر بھی ہیں،ہمارے پاس باطل کا سرنگون کرنے والے دانشوران بھی ہیں۔تو کس بات کی دیرہے اور کس کا انتظارہے جو مجاہدآزادی محمد علی جوہرکے نام سے قائم کردہ ایک یونیورسٹی کو زیرزمین ہوتا دیکھاجارہا ہے۔قوم سوئی ہوئی نہیں ہےبلکہ سونے کاناٹک کررہی ہے،اب اس ناٹک سے بازآنے کی ضرورت ہے۔

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN