اردو
हिन्दी
جون 25, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مسلم اکثریتی جزیرہ لکش دیپ نشانے پر

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
مسلم اکثریتی جزیرہ لکش دیپ نشانے پر
104
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی
لکشدیپ بحیرہ عرب (Indian Ocean) میں واقع ۳۶ جزیروں کا مجموعہ ہے، جو قدرتی مناظر پر مشتمل بہت ہی خوبصورت علاقہ ہے۔ یہ ہندوستانی مرکزی حکومت کے زیر انتظام ۸ یونین علاقوں میں سب سے چھوٹا علاقہ ہے۔ یہ جزیرے صوبۂ کیرلا کے ساحل مالابار سے ۲۰۰ ۔ ۳۰۰ کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ کیرلا ہائی کورٹ کے تحت آنے والے اس علاقہ میں ایک ضلع اور ۱۰ سب ڈویزن ہیں۔ ۱ نومبر ۱۹۵۶ء کو اِن جزیروں کو کیرلا کے ضلع مالابار سے الگ کرکے یونین علاقہ بنایا گیا تھا۔ ان میں سے تقریباً ۱۰ جزیرے آبادی والے ہیں جبکہ باقی جزیرے غیر آباد ہیں۔ جن کا کل رقبہ ۳۲ مربع کیلومیٹر ہے۔ کواراتی اس کا دارالحکومت ہے۔ لکشدیب کی آبادی تقریباً ۶۵ ہزار ہے۔ اِن میں تقریباً ۹۴ فیصد آبادی مسلم ہے۔ یہاں کے لوگ صوبۂ کیرلا کے لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے جنوبی صوبوں (کیرلا، کرناٹک اور تمل ناڈو) کی طرح یہاں کی اہم پیداوار ناریل ہے۔ مچھلی پالن خاص کر ٹونا مچھلی کا یہاں بہت بڑا کاروبار ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ ملیالم، جزری اور محل زبانیں بولتے ہیں۔ کیرلا کی طرح یہاں بھی عمومی طور پر ملیالم زبان ہی سرکاری دفاتر میں استعمال ہوتی ہے۔ کیرلا کے مالابار کی طرح ۷ ویں صدی سے ہی یہ جزیرے اسلام کے زیر اثر رہے ہیں۔ مشہور مسلم سیّاح ابن بطوطہ نے لکشدیپ کا ذکر کیا ہے۔ ۱۷۸۷ء میں اِن جزیروں پر ٹیپو سلطان کی حکومت قائم ہوئی۔ اور تیسری جنگ میسور کے بعد یہ علاقے برطانیہ کے قبضہ میں آگئے۔
یکم نومبر ۱۹۵۶ء میں یونین علاقہ بنائے جانے سے یہاں ایک ایڈمنسٹریٹر (Administrator) کا صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے تقرر کیا جاتا ہے۔ وہی علاقہ کا ہیڈ ہوتا ہے۔ لکشدیپ کے تمام جزیروں سے ایک ممبر آف پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ ST کے لئے محفوظ سیٹ ہے۔ ۱۹۵۷ء اور ۱۹۶۲ء میں یہاں انتخاب نہیں ہوا تھا بلکہ صدر جمہوریہ کی جانب سے ممبر آف پارلیمنٹ کا تعیین کیا گیا تھا۔ ۱۹۶۷ء میں پہلے الیکشن سے لے کر ۲۰۰۴ء تک پی ایم سعید صاحب ہی لکشدیپ کے ممبر آف پارلیمنٹ رہے۔ ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں محمد فیضال پی پی صاحب منتخب ہوکر ایم پی بنے۔
۳۵ ویں ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ۵ دسمبر ۲۰۲۰ء کو گجرات سے تعلق رکھنے والے پرفل پٹیل نے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ اب تک اس عہدہ پر آئی اے ایس افسران کی تقرری کی جاتی تھی مگر پہلی بار کسی IAS افسر کے بجائے ایک سیاسی شخص کو یہ ذمہ داری سوپنی گئی۔ پرفل پٹیل گجرات کی نریندرمودی کی حکومت میں وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔ پرفل پٹیل کی تقرری سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کسی ایجنڈہ کے تحت انہیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ اُن کے حالیہ چند فیصلوں کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے لکشدیپ سے واپس بلائے جانے کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ چنانچہ لکشدیپ کے ایم پی اور کیرلا سے تعلق رکھنے والے اُن کے ساتھیوں نے صدر جمہوریہ ہند کے نام خط تحریر کرکے انہیں لکشدیپ سے واپس بلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آزادی کے بعد ہندوستان کے دستور میں یہ تحریر کیا گیا کہ پورے ہندوستان میں شراب نوشی پر پابندی لگانے کی کوشش کی جائے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ ملک کی آزادی کے ۷۴ سال گزرنے کے باوجود شراب نوشی پر مکمل طور پر پابندی آج تک نہیں لگائی جاسکی۔ ہاں بعض صوبوں میں آج بھی پابندی ہے، جن میں گجرات کے علاوہ لکشدیپ بھی ہے۔ گجرات میں شراب نوشی پر پابندی کے باوجود گجرات سے لکشدیپ جانے والے پرفل پٹیل نے لکشدیپ میں شراب نوشی پر پابندی ہٹانے پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ ہندوستانی قوانین کی روح کا تقاضا ہے کہ شراب نوشی اور اس کے کاروبار پر پابندی لگائی جائے۔ اور ہندوستان میں موجود مذاہب کی تعلیمات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ شراب نوشی پر پابندی عائد کی جائے۔ لکشدیپ میں ۷۴ سال سے شراب پر پابندی نافذ ہے، اس پابندی کو ختم کرنے کی ملک میں کورونا وبائی مرض کے پھیلاؤ کے وقت کیا ضرورت پیش آگئی؟
ہندوستان کے بعض صوبوں میں قانوناً گائے کے گوشت کے خرید وفروخت کرنے اور کھانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، ان صوبوں میں سے کیرلا اور لکشدیپ بھی ہیں جہاں ہندو مسلم سب گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ لکشدیپ میں عمومی طور پر لوگ کیرلا نسل کے ہی آباد ہیں۔ مگر پرفل پٹیل نے لکشدیپ میں بیف کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لکشدیپ میں بیف کی خریدوفروخت پر پابندی کیسے قبول کی جاسکتی ہے؟ جبکہ وہاں کی آبادی ہمیشہ سے بیف کھاتی چلی آرہی ہے۔ آسام میں بھی، جہاں حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی ہے، بیف کے گوشت کھانے پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہندوستان کی تمام شمالی مشرقی ریاستوں (اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ) کے علاوہ، گووا، بنگال، لکشدیپ اور کیرلا میں قانوناً گائے کے گوشت خریدوفروخت کرنے اور کھانے کی مکمل اجازت ہے۔
پرفل پٹیل لکشدیپ میں غنڈہ ایکٹ بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہاں جرائم کی شرح بہت ہی کم ہے۔ لکشدیپ کے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس قانون کے ناجائز استعمال سے ہزاروں افراد کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا۔ مسلمانوں کی آبادی ۹۴ فیصد جبکہ غیر مسلموں کی آبادی بہت کم ہونے کے باوجود یہاں پر کسی طرح کے دنگے فساد نہیں ہوتے ہیں۔ تمام لوگ خوشی خوشی زندگی بسر کررہے ہیں۔
ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں ترمیم کرکے زمین مالکان کے مفادات کو نظر انداز کرکے اِس محکمہ کو لوگوں کی زمین حاصل کرنے کا حق دیا جارہا ہے، جس سے لوگوں میں بے چینی ہے۔ لکشدیپ میں شرح پیدائش بہت کم ہونے کی باوجود پنچائتی الیکشن میں دو بچوں کے قانون کو نافذ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے کہ جس شخص کے دو سے زیادہ بچے ہوں گے وہ امیدوار نہیں بن سکتا ہے۔
اس وقت ملک کورونا وبائی مرض سے جھوج رہا ہے، لاکھوں افراد اس مرض سے متاثر ہورہے ہیں اور ہزاروں افراد روزانہ مر رہے ہیں۔ شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں وسعت کے باوجود آسانی سے جگہ نہیں مل رہی ہے۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق ملک میں اب تک ۱۶ کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد مرچکے ہیں۔ زمینی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مرض بڑے شہروں کے بعد چھوٹے شہروں اور قصبوں کے علاوہ دیہاتوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ وہاں کے ہسپتالوں میں عام لوگوں کے لئے طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ کورونا وبائی مرض سے بچنے کے لئے موجودہ وقت کے اعتبار سے سب سے زیادہ مؤثر دوا یعنی ویکسین ملک کی آبادی کے حساب سے بہت کم تعداد میں تیار ہورہی ہے۔ اس لئے ویکسین کے مراکز بند کئے جارہے ہیں۔ موجودہ رفتار میں ۲۰۲۱ء کے آخر تک بھی ہندوستان کے ۱۳۰ کروڑ آبادی کو ویکسین نہیں لگ سکتی ہے۔ پورے ملک میں لاک ڈاؤن یا کرفیو نافذ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے اقتصادی حالات بد سے بدتر ہوگئے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے مسلسل دوسرے سال بند رہنے کی وجہ سے بچوں کا جو تعلیمی نقصان ہورہا ہے اس کی تلافی آسان نہیں ہے۔
ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ضرورت ہے کہ صلاحیتیں اس بات پر لگائی جائیں کہ اس آفت سے ملک کو کیسے بچایا جائے اور اس کی وجہ سے اقتصادی اور تعلیمی جو نقصانات ہوئے ہیں ان کی تلافی کیسے کی جائے، نہ کہ ایک چھوٹے سے خوبصورت جزیرہ کی فضا کو نفرت آمیز بنانے میں مصروف ہوجائیں، جس کی آبادی صرف ۶۵ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
(www.najeebqasmi.com)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
ٹرمپ پزشکیان معاہدہ

صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 14 نکاتی تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

جون 18, 2026
NEET 2026 UG Controversy

NTA کا ایک اور بڑا کارنامہ! طالب علم ناگپور کا اور نیٹ امتحانی مرکز ابوظہبی بھیجا

جون 20, 2026
سماجوادی پارٹی، اکھلیش یادو، بی جے پی

سماجوادی پارٹی میں پھوٹ یا بی جے پی کا سیاسی بیانیہ؟

جون 18, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

Trump asks Congress for $87bn, mostly for 'urgent' Iran war costs

ٹرمپ نے کانگریس سے مانگے 87 ارب ڈالر، زیادہ تر حصہ ‘ایران جنگ’ کے لیے

اٹھاکرے مہا وکاس اघाڑی میٹنگ

مہاراشٹر میں اَگھاڑی ٹوٹنے کی کگار پر؟ 23 ارکانِ اسمبلی غائب، شرد پوار بھی نہیں آئے، ادھو ٹھاکرے کا چھلکا درد

امریکی سینیٹ کا ٹرمپ کو جھٹکا

ایران جنگ پر US سینیٹ سے ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، قرارداد پاس کر کے فوجی کارروائی روکنے کا حکم

وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
Trump asks Congress for $87bn, mostly for 'urgent' Iran war costs

ٹرمپ نے کانگریس سے مانگے 87 ارب ڈالر، زیادہ تر حصہ ‘ایران جنگ’ کے لیے

جون 25, 2026
اٹھاکرے مہا وکاس اघाڑی میٹنگ

مہاراشٹر میں اَگھاڑی ٹوٹنے کی کگار پر؟ 23 ارکانِ اسمبلی غائب، شرد پوار بھی نہیں آئے، ادھو ٹھاکرے کا چھلکا درد

جون 25, 2026
امریکی سینیٹ کا ٹرمپ کو جھٹکا

ایران جنگ پر US سینیٹ سے ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، قرارداد پاس کر کے فوجی کارروائی روکنے کا حکم

جون 24, 2026

حالیہ خبریں

وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
Trump asks Congress for $87bn, mostly for 'urgent' Iran war costs

ٹرمپ نے کانگریس سے مانگے 87 ارب ڈالر، زیادہ تر حصہ ‘ایران جنگ’ کے لیے

جون 25, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN