نئی دہلی میں اقلیتی عبادت گاہوں پر حملوں کے خلاف IMCR اور APCR زیر اہتمام مشترکہ عوامی میٹنگ ،کئی اہم فیصلے لیے
نئی دہلی | 4 فروری،(آرکے بیورو)
اس وقت اتراکھنڈ ہیٹ لیب بناہوا ہے فارمیٹ دو ہیں ،اگر مسلمان کم تعداد میں ہیں تو حملہ کردیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں کورٹ کا سہارا لیا جائے یہ بات پروگرام کے کنوینر اور اے پی سی آر کے سکریٹری ندیم خان نےملک بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں، غیر قانونی مسماری، قانونی ہراسانی اور انتظامی زیادتیوں کے خلاف انڈین مسلمس فار سول رائٹس (IMCR) اور ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے زیر اہتمام نئی دہلی میں ایک اہم مشترکہ اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس کی صدارت سابق چیف جسٹس پٹنہ ہائی کورٹ اقبال احمد انصاری نے کی۔اس میں سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ، IMCR کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی، اراکین پارلیمنٹ سنجے سنگھ، مولانا محب اللہ ندوی اور ضیاء الرحمن برق، حمد اللہ سعید، سپریم کورٹ کے سینئر وکلا ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے اور فضیل احمد ایوبی، جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان۔ آل انڈیا پیس مشن کے صدر سردار دیا سنگھ، وغیرہ نے اپنے خیالات رکھے ،کھچاکھچ بھرے ہال میں سماجی کارکنان، سرکردہ صحافی اور مختلف مذاہب کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اتراکھنڈ کے لیڈر مولانا زاہد نے کہا کہ اس میٹنگ کوئی راستہ نکلنا چاہیے ، ،انیوں نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ انہوں نے کہا کہ حالات سے سہمنے کی بجائے جرات سے کام لینا ہوگا
اغاروح اللہ نے کہا کہ ملک اقلیتوں کے لیے تنگ کیا جارہا ہے اور ہندوراشٹر فنکشلی اپنا کام کررہا ہے ،بنگال اور ساؤتھ کو چھوڑکر سب جگہ مسائل ہیں ، ـاب لنچنگ کا دائرہ بڑھ رہا ہے اکنامک کے علاؤہ آئیڈنٹٹی لنچنگ ہورہی ہے ـ ہم کو حقوق کی آئینی لڑائی تو لڑنی ہوگی ـ
سابق ایم پی محمد ادیب نے کہا کہ ملک میں نفرت کا ماحول تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے اور مساجد و گرجا گھروں پر حملوں کے باوجود انتظامیہ اور اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے۔انہوں نے وارننگ دی کہ ایسا نہ ہو کہ کل مزاحمت کسی اور شکل میں سامنے آئے انہوں نے سیکولر پارٹیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ـ
سنجے سنگھ نے کہا کہ ظلم کسی ایک مذہب تک محدود نہیں بلکہ تمام کمزور طبقات اس کا شکار ہیں، اس لیے جدوجہد کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
ضیا الرحمن برق نے سنبھل کے حوالہ سے کہا کہ سنبھل کے ساتھ متھرا، کاشی کو ہندوتو لیبارٹری بنانے کی کوشش ہورہی ہے ،سنبھل اس چیلنج کا ہر قانونی وجمہوری طور پر مقابلہ کررہا ہے
انہون نے ادیب صاحب کی اس بات سے اختلاف کیا کہ ان کی پارٹی خاموش رہتی ہے
دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کہا کہ اس وقت ملک میں دو نئی لیب ہیں اتراکھنڈ اور آسام ،انہوں نے سی ایم آسام کے بیانوں کا تذکرہ کیا ـکورٹ کے رویوں ہر بھی انگلی اٹھائی ،ان کا الزام ہے کہ انتظامیہ کی ریڑھ کی ہڈی غائب ہوگئی ہے
اجلاس کے صدر اور نائب امیر جماعت ملک معتصم خان نے ملک حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کتنا بھی دباؤ ڈالا جائے مسلمان نہ دین چھوڑیں گے نہ ہی دیش ،اپ نے عدلیہ اور انتظامیہ کے رویے پر سوالیہ نشان لگایا اور کہا کہ ہمیں آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کرنی ہوگی
اجلاس میں شرکاء نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض ریاستوں میں سرکاری مشینری قانون کے بجائے طاقت کے استعمال کا ذریعہ بن رہی ہے۔خاص طور پر اتراکھنڈ میں رائج ’’بلڈوزر کلچر‘‘ کی مذمت کی گئی، جہاں عدالتی احکامات کے باوجود مساجد اور دیگر مذہبی ڈھانچوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ اجلاس دو سیشن پر مشتمل تھا، پہلا سیشن ملک بھر سے آئے ہوئے مسجد کمیٹیوں کے زمہ دران کے لئے تھا جبکہ دوسرا سیشن عام پبلک میٹنگ رہا۔
اجلاس میں ماہرین نے بتایا گیا کہ ملک بھر میں تقریباً 2500 مساجد کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ عیدگاہوں، قبرستانوں اور مدارس کی زمینیں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ضبط کی جا رہی ہیں، جس سے اقلیتی برادری کے مذہبی اور سماجی وجود کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
اجلاس میں سکھ، عیسائی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے نمائندوں نے بھی اپنے مسائل پیش کیے اور کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک مذہب کا نہیں بلکہ تمام شہریوں کے آئینی حقوق سے جڑا ہوا ہے۔








