نئی دہلی:
مرکزی حکومت نے کہاکہ شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) کے تحت اہل مستحقین قوانین کو نوٹیفائڈکئے جانے کے بعد ہی شہریت حاصل کرنے کے لیے درخواست کرسکتے ہیں ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے یہ بھی کہا کہ شہریت قانون میں کسی طرح کی ترمیم کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں رائے نے کہا کہ ’اہل شخص مرکزی حکومت کی جانب سے مذکورہ قانون نوٹیفائڈ کئے جانے بعد ہی شہریت حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا سرکار نے سی اے اے کے نافذ ہونے کے بعد شہریت نئی درخواستیں موصول کی ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ سی اے اےکو 12 دسمبر 2019 کونوٹیفائڈ کیا گیا تھا اور یہ 10 جنوری 2020 سے نافذ العمل ہے۔
رائے نے کہا سی اے اے کے ماتحت قانون بنانے کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی ’ماتحت قانون سازی سے متعلق کمیٹیوں‘ سے 9 جنوری2022 تک کا وقت توسیع حاصل کرنے کے لیے اپیل کی گئی ہے ۔
شہریت ترمیمی قانون کا مقصد بنگلہ دیش ، افغانستان اور پاکستان سے چھ اقلیتی برادریوں ہندو ، بدھ ، جین ، پارسی ، عیسائی اور سکھ فرقوں کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد ملک کے کئی حصوں میں اس کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا تھا۔











