لکھنؤ:
اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے کمر کس لی ہیں، جہاں بی جے پی کو اس مرتبہ ریاست میں اپنے حریفوں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس سے سخت ٹکر ملنے کی امید ہے، وہیں اوم پرکاش راجبھر کی سہیل دیو سماج پارٹی اور اسدالدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم بھی بی جے پی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ اس درمیان اویسی کا ایک بیان سوشل میڈیا پر جم کر وائرل ہو رہا ہے ۔ اس میں وہ یوپی میں بی جے پی کی سرکار نہ آنے دینے کے ساتھ یوگی کو بھی دوبارہ سی ایم نہ بننے دینے کا چیلنج دے رہے ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی تقریر میں کہتے ہیں- ’’ان شاء اللہ دوبارہ یوگی کو اترپردیش کا وزیر اعلیٰ نہیں بننے دیں گے، اگر ہمارے حوصلے بلند رہیں گے ، محنت کریں گے تو سب کچھ ہوگا اگر ہماری کوشش یہی ہے کہ دوبارہ یو پی میں بی جے پی کا سرکار نہ بنے‘‘ اویسی کے اس بیان کی ویڈیو پارٹی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر بھی شیئر کیا ۔
حالانکہ اویسی کے اس بیان کے بعد یوپی کے سیاسی گلیاروں میں ہلچل شروع ہوگئی۔ بی جے پی لیڈر اور مرکزی حکومت میں وزیر مختار عباس نقوی نے کہاکہ اویسی حیدر آباد سے آکر اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ یا کسی اور کو وزیر اعلیٰ کب سے بنانےلگے؟ وہ کانگریس پر مہربانی کریں، بی جے پی پر مہربانی کی ضرورت نہیں ہے۔ اترپردیش کے عوام جانتے ہیں کہ کس کی سرکار چاہئے۔
نقوی کے ساتھ ساتھ یوپی حکومت میں وقف امور کے وزیر محسن رضا نے بھی اویسی کوآڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اویسی کا ان شاء اللہ ،ان شاء اللہ بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے کا نعرہ دینے والوں سے میل کھاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اویسی کے آباؤ اجداد نے ہی کانگریس پر دباؤ بنا کر ملک کی تقسیم کی تھی۔
محسن رضا نے اپوزیشن کوچیلنج دیتے ہوئے کہاکہ آج ملک میں اکھنڈ بھارت کی سرکار ہے، جو ملک کو بانٹنے کی بات کرے گا اسے ہماری ایجنسیاں ٹکڑےٹکڑے کرنے کا کام کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ آج اترپردیش میں ابھی یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار ہے اور آگے بھی یوگی سرکار ہی بنے گی۔
دریں اثناء سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے صدر اوم پرکاش راجبھر نے کہاکہ اسد الدین اویسی اگراترپردیش کے ووٹر بن جائے تو وہ بھی اترپردیش کے وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں ۔ بی جے پی کی سابق اتحادی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے صدر و سابق کابینہ وزیر راجبھر نے جمعہ کی رات ضلع کےراسڑہ واقع اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین صدر اسد الدین اویسی اگر اترپردیش کے ووٹر بن جائے وہ بھی یہاں کےوزیر اعلیٰ ہو سکتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ’ اترپردیش میں مسلمان تقریباً 20 فیصدی ہیں۔ ان کی حصہ داری ہے تو اقتدار میں بھی ان کی بھاگیداری ہونی چاہئے۔ ان کا بھی حق ہے ۔ مسلمانوں کا بھی حصہ ہے ‘ ۔انہوں نے سوال کیا ’’ مسلمان کا بیٹا کیوں نہیں وزیراعلیٰ و ڈپٹی سی ایم بن سکتا ہے؟ کیا مسلمان ہونا گناہ ہے؟ انہوں نے کہاکہ علیحدگی پسند اور پاکستان کی بات ہمیشہ کرنے والی محبوبہ مفتی سے سمجھوتہ کر کے بی جے پی نے جموں وکشمیر میں سرکار بنائی۔ راجبھر نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ چالاک نکلے ورنہ اتراکھنڈ سے آکر اترپردیش کا ووٹر بن کر وزیر اعلیٰ بن گئے۔









