پٹنہ : (پریس ریلیز)
بہارکی راجدھانی پٹنہ میں رونما ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں آج خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق عدالت نے ایک ملزم فخرالدین غلام مرتضی کو تمام الزامات سے بری کردیا جبکہ دیگر نو ملزمین کو قصور وار پایا ہے۔
عدالت نے ملزم محمد افتخار محمد مصطفی کو تعزیزات ہند کی دفعہ 201، محمد فیروز اسلم کو یو اے پی اے قانون کی دفعہ40 اور ملزم احمد حسین سید قریشی کو آرمس ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت قصور وار پایا ہے۔یہ تینوں ملزمین کو چودہ سالوں سے زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی ہے جبکہ ملزمین امتیاز انصاری کمال الدین، حیدر علی عالم انصاری،نعمان سلطان انصاری،مجیب اللہ جابر انصاری،عمیر شفیع صدیقی، اظہر الدین شکیل الدین قریشی کو تعزیرات ہند کی دفعات 120B, 302,307,121,121A, 34 اور دھماکہ خیز مادہ کی دفعات 3,4، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 16,18,20 کے تحت قصور وار پایا ہے۔خصوصی جج گرویندر سنگھ ملہوترانے آج تمام ملزمین کی موجودگی میں فیصلہ سنایا، عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ وہ یکم نومبر کو ملزمین کی سزاؤں پر بحث کریں۔
اس معاملے کا سامنا کررہے تمام ملزمین کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمد نی) قانونی امداد کمیٹی قانون امداد فراہم کررہی ہے،آج خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ ظاہر کیئے جانے کے بعد جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ وہ عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں حالانکہ وہ عدالت کے فیصلہ سے متفق نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے دفاعی وکلاء کی جانب سے دیئے گئے دلائل کو خارج کردیا جبکہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیئے گئے کمزور ثبوت وشواہد کو اہمیت دی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ عدالت نے تفتیشی ایجنسی کی جانب سے تفتیش میں کی جانے والی غیر آئینی تفتیش جس میں ملزمین سے جبراً لیا گیا اقبالیہ بیان، گواہوں کو دھمکا کر ملزمین کے خلاف دیا گیا بیان، فارینسک سائنس رپورٹ میں موجود خامیاں، گواہوں کے بیانات میں تضاد، پولس افسران کے بیانات میں تضاد، غیر قانونی طریقے سے ملزمین کے قبضوں سے ضبط کی گئی اشیاء،شناختی پریڈ کا نہ ہونا وغیرہ کو نظر اندازکردیا ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ عدالت سے ملزمین کو کم سے کم سزا دیئے جانے کی گذارش دفاعی وکلاء ایڈوکیٹ سید عمران غنی،ایڈوکیٹ واصف الرحمن خان ودیگرکریں گے۔
واضح رہے کہ 23 اکتوبر2013ء کو پٹنہ کے مشہور تاریخی گاندھی میدان میں بم دھماکہ ہوا تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے والے تھے، اس بم دھماکہ میں 6لوگ ہلاک اور 90 افراد زخمی ہوئے تھے۔ بم دھماکوں کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کے سپرد کی گئی جس نے بہار، جھاکھنڈ اور آس پاس کی دیگر ریاستوں سے10مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات307,326,212,121(A)، 120(B)، 34، دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 3, 5 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 16,18,20 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔









