اردو
हिन्दी
جون 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پیگاسیس جاسوسی اورحق برائے رازداری

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
پیگاسیس جاسوسی اورحق برائے رازداری
39
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

ایمنسٹی انٹرنیشل کی حالیہ رپورٹ نے پوری دنیا میں ہنگامہ برپا کردیا ہے، کئی ملکوں نے جاسوسی کی اس رپورٹ کی بعد تفتیشی احکامات جاری کردیے ہیں، یہ رپورٹ دنیا کے 17 اداروں کے ذریعے منظر عام پر لائی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سرویلانس کمپنی این ایس او گروپ نے پیگاسیس اسپائی ویئر کے ذریعے تقریبا پچاس ممالک کے اہم ترین افراد کے 50 ہزار سے زائد موبائل کی جاسوسی کی ہے، اسپائی ویئر دراصل ایک قسم کا سافٹ ویئر ہے جس سے خفیہ جاسوسی کا کام لیا جاتا ہے، ہمارے ملک کے تقریبا تین سو موبائل نمبروں کا ذکر رپورٹ میں آیا ہے جن کا تعلق سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی، سابق چیف الیکشن کمشنر اشوک لواسا، انڈین نیشنل کانگریس کے صدر راہل گاندھی، سینئر صحافی، اہم پولیس چیف و اعلی افسران، حقوق انسانی کارکنان، وکیل، اہم ترین صنعتکار اور حتی کے موجودہ مرکزی وزرا کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کی خفیہ جاسوسی کی جارہی تھی۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس پوری طرح اس رپورٹ کی نظر ہوگیا، ہنگامہ آرائی کا ماحول رہا، الزامات یقینا سنگین ہیں، ایک غیر ملک کی پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے ملک کے اہم افراد کی اس طرح سے جاسوسی یقینا تشویشناک ہے، اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ حادثہ ملک کی سلامتی اور جمہوری نظام کے خلاف ایک سازش ہے، یہ ہماری آزادی اور تحفظ پر سرکاری حملہ ہے، جب کہ حکومت و بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے اس پورے معاملے کو اپوزیشن کی سازش قرار دیتے ہوئے مانسون اجلاس کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے، سابق مرکزی وزیر نے 2013 میں ہزاروں لوگوں کے موبائل ٹیپ ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے الزامات کو خارج کرنے کی کوشش بھی کی، ایمنسٹی انٹرنیشنل پر بھارت مخالف ایجنڈوں میں شامل رہنے کے دعوے بھی کئے تاہم اس پورے معاملہ کی تفتیش کو لے کر سابق مرکزی وزیر کے ساتھ ساتھ پوری حکومت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جب کہ تمام ہی اپوزیشن پارٹیاں اس کی جانچ کے لئے ایک آواز میں مانگ کررہی ہیں۔

اگر ہم الزامات پر نظر ڈالیں تو یقینا الزامات اتنے سنگین یقینا ہیں جن کی جانچ ہونی چاہیے، این ایس او گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ دہشت گردانہ کاروائیوں اور سنگین جرائم کی روک تھام نیز تفتیش کی غرض سے حکومتوں کو پیگاسیس اسپائی ویئر فراہم کرتے ہیں، یعنی صاف الفاظ میں این ایس او کے مطابق ان کا خریدار یا موکل صرف حکومتیں یا ان کی سرکاری ایجنسیاں ہی ہوسکتی ہیں، کل 36 ملک کی حکومتیں این ایس او گروپ کی خریدار ہیں، این ایس او کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ کوئی پرائیویٹ کمپنی یا فرد پیگاسیس کا استعمال کرکے جاسوسی کرسکتا ہو۔ پیگاسیس کے ذریعے کسی بھی فون یا لیپ ٹاپ میں بآسانی داخل ہوکر پورے فون کو دیکھا اور اس میں موجود تمام ہی فائلوں کو نکالا جاسکتا ہے، اس فون یا کمپیوٹر میں موجود تمام میسیج، ای میل، فوٹو، ویڈیو، دستاویز کو حاصل کیا جاسکتا ہے، اس میں ردوبدل نیز ترمیم کی جاسکتی ہیں، آپ کے موبائل یا لیپ ٹاپ کے کیمرے کو آپ کی جانکاری کے بغیر استعمال کرکے آپ کا ویڈیو بنایا جاسکتا ہے، آپ پر نظر رکھی جاسکتی ہے، آپ کہاں ہیں؟ کس کس مل رہے ہیں؟ کیا باتیں کررہے ہیں؟ غرض ہر ہر لمحے آپ کو آپ کے موبائل کے ذریعے ہی جاسوسی کا شکار بنایا جاتا ہے، پہلے آپ کے موبائل یا لیپ ٹاپ کو ہیک کرنے کے لئے کوئی لنک بھیجا جاتا تھا جس پر کلک کرنے کے بعد آپ کے لیپ ٹاپ یا موبائل میں اسپائی ویئر داخل ہوجاتا ہے لیکن پیگاسیس میں کسی لنک پر کلک کرنا بھی ضروری نہیں ہے یعنی زیرو کلک سے آپ کا موبائل یا لیپ ٹاپ پیگاسیس کا شکار ہوجائے گا۔

1970-80 کی دہائی میں مشہور تھا کہ فون پر اگر رازداری کی باتیں کرنی ہوں تو صبح سویرے کرلو کیونکہ کان میں ہیڈفون لگاکر فون کال سننے والے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ابھی آفس نہیں پہنچے ہوں گے، ہمارے ملک میں کان لگاکر باتیں سننے کا رواج گھروں سے لے کر آفسوں تک عام بات ہوا کرتی ہیں، ہر زمانے میں حکومتوں کے ذریعے جاسوسی ہونا تاریخ کا اہم باب رہا ہے، حکومت کااستحکام خفیہ نظام کی مضبوطی پر منحصر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں انٹلیجنس بیورو کے پاس لامتناہی اختیارات اور بے تحاشہ وسائل و ذرائع دستیاب ہیں جن کی نہ تو کوئی جواب دہی ہے اور نا ہی کوئی احساس ذمہ داری، کیونکہ حکومت کے فیصلے خفیہ ایجنسی کی خبروں پر ہی منحصر ہوتے ہیں، حتی کہ دیگر ایجنسیوں کی خبروں کی تصدیق بھی خفیہ ایجنسی ہی کرتی ہے۔

ہمارے ملک کے اہم جاسوسی واقعات میں 1988 کا کرناٹک حادثہ ہے جس کے بعد کرناٹک کے وزیراعلی راماکرشنا ہیگڑے کو اخلاقی بنیاد پراستعفی دینا پڑا تھا، وہیں 1991 میں جاسوسی کے الزامات کے بعد وزیراعظم چندرشیکھر کو مستعفی ہونا پڑا تھا جب ہریانہ سی آئی ڈی کے دو اہلکار راجیوگاندھی کے گھر کے قریب آنے جانے والوں پر نظر رکھنے کے الزام میں پکڑے گئے تھے، اس واقعہ کے فورا بعد ہی سماجوادی جنتاپارٹی کی حکومت ڈھیر ہوگئی تھی، 1997 میں ٹاٹا ٹیپ جاسوسی کے بعد 2010 راڈیا ٹیپ بھی منظر عام پر آئے، 2014 میں بلیک بیری میسیجنگ جاسوسی حادثہ ہوا، ان الزامات سے کوئی سیاسی پارٹی بری الذمہ نہیں ہوسکتی ہے، بلکہ اپنے مخالفین پر نظر رکھنے کے ہر زمانے میں دستیاب ذرائع کا استعمال حکمراں جماعت کرتی رہی ہیں۔

کچھ ہی عرصہ پہلے بھیما کورے گاوں کے ملزمین کے لیپ ٹاپ میں ممنوعہ مواد پلانٹ کرنے کا دعوی کرنے والی آرسینل فارنسک ایجنسی کی رپورٹ نے سب کو چونکا دیا تھا، اس رپورٹ کے مطابق حقوق انسانی کارکن رونا ولسن اور ایڈوکیٹ سریندر گڈلنگ کے لیپ ٹاپ میں ملک مخالف لٹریچر آن لائن غیرقانونی طریقے سے داخل کیا گیا اور اس کے بعد ہی ان کو ملک آکالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا، جن الزامات میں ضمانت کے امکانات پوری طرح ختم ہوجاتے ہیں، لیپ ٹاپ سے اسپائی ویئر کے ذریعے چھیڑچھاڑ کا الزام ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے اوپر لگتا رہاہے۔

انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ 5(2) کے تحت صوبائی پولیس کسی بھی موبائل یا فون کو60 دنوں تک ٹیپ کرسکتی ہے لیکن اس کی اجازت صوبہ کی داخلہ سکریٹری سے لینی ضروری ہے، مخصوص حالات میں یہ ریکارڈنگ 180 دن تک بھی ہوسکتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69کے مطابق مرکز حکومت صوبائی حکومت کو فون ٹیپ یا سرویلانس کی اجازت سے سکتی ہے، لیکن یہ اجازت ملک کی سلامتی و اتحاد سے متعلق ضروری معاملات میں ہی مل سکتی ہے، ہمارے ملک کی کل دس ایجنسیاں ہیں جو سرویلانس ضروری اجازت کے بعد کرسکتی ہیں، جن میں انٹلجنس بیورو(آئی بی)، سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائیرکٹوریٹ (ای ڈی)، نارکوٹکس ڈرگس کنٹرول بیورو (این سی بی)، سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسیز (سی بی ڈی ٹی)، ڈائریکٹوریٹ آف ریوینو انٹیلجنس (ڈی آر آئی)، نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی (این آئی اے)، ریسرچ اینڈ انالیسیس ایجنسی (آر اینڈ اے ڈبلیو)  ڈائریکٹوریٹ آف سگنل انٹیلجنس (ڈی ایس آئی) اور دہلی پولیس کمشنر (ڈی پی سی) ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 43 اور 66 کے تحت ہیکنگ ایک قابل سزا جرم ہے، اگر کسی کو غیر قانونی طریقے سے سرویلانس یا جاسوسی کی جاتیی ہے تو متاثر شخص نیشنل کمیشن برائے حقوق انسانی میں شکایت کرسکتا ہے۔ متاثر شخص پولیس میں ایف آئی آر بھی درج کرواسکتا ہے۔ انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ 26 B کے تحت عدالت میں درخواست بھی دے سکتا ہے، الزامات ثابت ہونے پر تین سال تک کی سزا ہے۔ لیکن یہاں دو سوال ہیں، ایک تو یہ کہ ایک غیر ملکی پرائیویٹ کمپنی سے اس قسم کی جاسوسی کے ذریعے حکومت وہ کون سے راز حاصؒ کرنا چاہتی ہے اور پھر ان راز کا استعمال کن مقاصد کے لئے کرے گی؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت جمہوری و دستوری قدروں کا خون کرنے کی اگر مورد الزام ہے تو جواب دہی کون طے کرے گا؟ کیا سپریم کورٹ کے جج اپنی جاسوسی کے بعد فیصلہ برحق کرسکتے ہیں؟ یا سی بی آئی چیف ایمانداری سے تفتیش کرنے کی حالت میں ہونگے؟ یا چیف الیکشن کمشنر بلیک میل نہیں ہوسکتے؟ جمہوریت کا قتل پھر کیسے ہوتا ہے؟

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN