نئی دہلی : (ایجنسی)
مرکز کے اقتدار کا سیمی فائنل کہا جانے والا اتر پردیش الیکشن قریب آچکا ہے۔ بی جے پی سمیت تمام سیاسی پارٹیاں انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس ہفتے سپریم کورٹ نے’پیگاسس اسپائی ویئر‘ معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ اس کمیٹی کو آٹھ ہفتوں یعنی 58 دنوں میں سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ اس وقت انتخابی تیاریاں عروج پر ہوں گی۔ رپورٹ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ اس معاملے پر حتمی فیصلہ سنائے گی۔ اگر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ مرکزی حکومت کے خلاف آتی ہے تو ’پیگاسس‘ کیس یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کو سیاسی نقصان پہنچا سکتی ہے اور اگر مرکزی حکومت کو رپورٹ میں کلین چٹ مل جاتی ہے تو اپوزیشن کے الزامات بے نقاب ہو جائیں گے۔
دوسری طرف سپریم کورٹ کے حکم کے بعداس معاملے کو لے کر پرجوش ہے ۔ انہیں لگتاہے سپریم کورٹ کی جانچ کمیٹی، اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کر سچائی باہر لے آئے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اترپردیش کے انتخاب میں ’پیگاسس ‘ معاملے کا حاوی ہونا طے ہے۔ جبکہ بی جے پی کو لگتا ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں قومی سلامتی کی حساسیت کا پورا خیال رکھے گی۔ اترپردیش کا اسمبلی انتخاب فروری اور مارچ میں ممکن ہے ۔ اگر 2017 کے یوپی اسمبلی انتخابات کی تاریخوں پر غور کریں تو 11 فروری سے 8 مارچ کے درمیان سات مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ اسی طرح سال 2012 کے دوران ہوئے اسمبلی انتخابات کی تاریخیں بھی کچھ ایسی ہی رہی تھیں۔ اس وقت بھی یوپی میں آٹھ فروری سے 3 مارچ کے درمیان پولنگ ہوئی تھی۔ ابھی الیکشن کمیشن نے اگلے سال کے شروع میں ہونے والی ووٹنگ کاشیڈول جاری نہیں کیا ہے ۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوپی انتخاب 2022 میں بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے ۔









