تحریر:اپوروانند
نریندر مودی نے ہری دوار کے ’دھرم سنسد‘کے پیغام کو اپنی زبان میں پھر سے نشر کیا۔ لوگ اس پر ناراض تھے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی رہنمانے، وفاقی حکومت کے کسی وزیر نے،وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ہری دوار میں منعقدہ ’دھرم سنسد‘ میں مسلمانوں کے قتل عام کے اعلان کی مذمت نہیں کی۔ یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے کہ اس دھرم سنسد اور بی جے پی کی سیاست کا آپس میں کیا تعلق ہے، وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ کے لکھپت گرودوارہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’جن خطرات سے سکھ گروؤں نے خبردار کیا تھا وہ آج بھی اسی شکل میںموجود ہیں۔‘‘
مودی نے مزید کہا،’’گرو تیغ بہادر کی قربانی اور اورنگ زیب کے خلاف ان کی بہادرانہ عمل نے ہمیں سکھایا ہے کہ ملک کو دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی سے کیسے لڑنا چاہیے۔‘‘
یہبیان جو ایک مذہبی موقع پر، ایک مذہبی مقام سے دیا جا رہا تھا، مودی نے بار بار مغلوں،مسلم حکمرانوں کے مظالم اور ان کے خلاف سکھ گرووں کی جدوجہد کا حوالہ دیا: ’’ان کے (مغل) دور حکومت میں اتنے مظالم ہوئے کہ سکھ گروؤں نے ملک کے لیےاپنی جان دینے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔‘‘
مودی نے اپنی تقریر میں، جیسا کہ اخبارات نے اسے رپورٹ کیا کہ ہمیشہ سکھ گروؤں کی بحث مسلم حکمرانوں کی مخالفت میں کی۔ ان کی تعریف اس لیے بھی کی گئی کیونکہ ان کے مطابق وہ مسلمان حکمرانوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان دے رہے تھے۔ وہ یہ کام ملک کے لیے کر رہے تھے۔ مودی نے کہا کہ سکھ گرو جو کر رہے تھے وہ آج بھی کرنا ہے کیونکہ وہ خطرہ آج بھی موجود ہے۔
سی اے اے کے احتجاج پر حملہ
وہ خطرہ کہاں سے ہے؟ کس سے لڑنا ہے؟ جن سے ہوشیار رہنا ہے اور لڑنا ہے،یہ مودی اور بی جے پی کے لیڈرمسلسل برسوںسے طرح طرح سے کہتے چلے آرہےہیں ۔ سی اے اے مخالف مظاہرے کےدوران مودی نے چالاکی سے کہاکہ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں، انہیں ان کے کپڑوں سے پہچانیں۔ اور اتر پردیش میں، کرناٹک میں، دہلی میں مسلمانوں پر حملے کئے گئے۔
مسلمانوں پر حملے پولیس نے کئے اور پولیس کے ساتھ مل کر انہوں نے کئے جو نعرے لگارہے تھے، ’’دہلی پولیس لٹھ چلاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔ یہ نعرہ بھی سننے کو ملا: ’’مودی جی، تم لٹھ چلاؤ ،ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔
مودی جو کچھ بڑے سلیقے اور چالاکی سے کہہ رہے ہیں، وہ بغیر کسی پردے کے ’دھرم سنسد‘ میں کہا گیا۔ ’اسلامی بھارت میں سناتن کا مستقبل: مسائل اور حل‘: یہ ہری دوار میں ہونے والے اجتماع کا موضوع تھا۔ اسلامی بھارت ! کیا بھارت اسلامی ہے یا کبھی تھا؟ بھارت میں ہندو ، مسلمان، بدھ ،جین ، سکھ حکمرانوںنے الگ الگ وقت میں الگ الگ علاقوں پر حکومت کرچکے ہیں ۔
کیا ان سب کے نام سے ان علاقوں کو اور ان کے وقت کوجین،بدھ ، ہندو، سکھ بھارت کہاجاسکتاہے؟
فرض کریں بھارت میں مغلوں کی حکومت کو اسلامی کہنے کا رواج ہے تو وہ بھی گزر چکا ہے۔ پھر کس اسلامی بھارت کےمسائل پر دھرم گرو بحث کررہے تھے؟ کیا وہ ہندوؤں کو ڈرارہے تھے کہ بھارت اسلامی ہونےجا رہاہے، اس لئے انہیں تیاری کرنی چاہئے، ہتھیار خریدنےچاہئے، اپنے بچوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت دینی چاہئے تاکہ مسلمانوں کا قتل عام کیا جاسکے۔
مسلمانوں کا قتل ہی بھارت کو اسلامی ہونے سے بچا سکتا ہے۔ تمام مذہبی گرو یہی کہہ رہے تھے۔ دوسری طرف مودی ہندوؤں کو اورنگ زیب، احمد شاہ ابدالی، نادر شاہ، سید سالار مسعود کے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں۔ ان کا نام لینے کے بعد کہتے ہیں کہ وہی خطرہ آج ہندوستان میں موجود ہے۔ اور وہ کرنا جو شیواجی، سہیل دیو، گرو تیغ بہادر یا بندہ بہادر نے کیا۔
مودی کے بیان کا مفہوم
وزیر اعظم جس کوڈ لینگویج میں بول رہے ہیں، مذہبی گرو براہ راست اپنے پیروکاروں کو اس کی وضاحت کر رہے ہیں۔ مودی علامتوں میں خطرے کو پیش کر رہے ہیں۔ وہ علامتیں ہیں بابر، اورنگ زیب، محمد غوری، ابدالی، نادر شاہ۔ وہ کس چیز کی علامت ہیں؟ اور جن کی وہ علامتیں ہیں، کیا ان کے ساتھ وہی سلوک نہیں ہونا چاہیے جو گرو تیغ بہادر، سہیل دیو نے کیا ؟
بابر یا اورنگ زیب بھلے ہی نہ ہوں ان کی اولادیں ہیں۔ ان سے وہی خطرہ ہے جو بابر یا اورنگ زیب سے تھا۔ بھارت کے لوگ بابر کی اولاد کا مطلب سمجھتےہیں اوراورنگ زیب کا بھی۔ بابری مسجد کےانہدام کی تحریک کے وقت بابری کی اولادوں سے نمٹنے کے نعرے لگائے جارہے تھے ،اور وہ جاری ہے۔ اپنی اولادوںمیں یہ ’ہندو مخالف‘ اوراس لئے بھارت مخالف زندہ ہیں ۔ جب تک ان کو ختم نہیں کیاجاتا،بابر اوراورنگ زیب کا خطرہ بنا ہواہے۔ بھارت کے اسلامی ہونے کاخطرہ بناہوا ہے۔
ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ایک مکمل جملہ ہے جس کا ایک حصہ مودی بولتے ہیں، آگے کی خالی جگہ آدتیہ ناتھ بھرتے ہیں اور اسے مکمل کرنے کا کام یتی نرسگھانند، پربودھانند اور باقی مذہبی گرووں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ پورا جملہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریے کی وضاحت ہے۔ یعنی مسلمان اور عیسائی ہندوستان کی خالص گنگا ندی میں آلودگی پھیلانے والے ہیں اور گنگا کو صاف کیا جانا ہے۔ اس کی دھارا کو بلاروک ٹوک اور خالص رکھنا ہے ۔
اب وہ صاف ہوگیاہے ۔ مسلمان یہ کہہ کر نہیں بچ سکتے کہ وہ بابر کی اولاد نہیں ہے۔ اگروہ بابر، اورنگ زیب کی مذمت بھی کریں تو بھی ان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
سنگھ اور ہٹلر
جرمنی کا یہودی صفایا اب یاد نہیں کیا جاتا کیونکہ اسرائیل اب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا آئیڈیل ہے۔ جس طرح یہ یہودیوںکا راشٹرہے، ویسے ہی بھارت کو صر ف ہندو راشٹر بنانا ہے۔ اس لئے جن یہودیوں کے صفایا کےلیے سنگھ ہٹلر پر لبریزتھا،آج وہ قوم پرستی کا علمبردار ہے۔
ویسے تو اسرائیل کے لوگ اس بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ اگر ہٹلر اور آر ایس ایس کے ارادے پورے ہوتے تو آج اسرائیل نقشے پر کہاں ہوتا؟
اگر ہم ہری دوار سے مسلمانوں کے قتل عام کے اعلان سے ناراض ہیں اور نہیں چاہتے کہ اسے دہرایا جائے تو یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کیے اور آر ایس ایس کا بائیکاٹ کیے بغیر نہیں ہو سکتا۔ آپ جب تک اس ذرائع کو بندنہیں کرتے جہاں سے یہ زہر نکل رہاہے، بار – بار پونچھا لگا کر اس کا کیچڑ صاف نہیں کر سکتے۔
(بشکریہ: ستیہ ہندی: یہ مضمون نگار کےذاتی خیالات ہیں)









