اسرائیل کے وزرائے دفاع اور انصاف نے کہا ہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خود مختاری نافذ کرنے کا موقع موجود ہے۔وزیر دفاع یسرائیل کاتز اور وزیر انصاف یاریف لیوین نے آج جمعرات کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی تیاری کر لی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم نے مغربی کنارے پر اپنی خود مختاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے فیصلے کر لیے ہیں۔”
رواں ماہ23 جولائی کو اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) نے مغربی کنارے اور وادی اردن پر خود مختاری کے اعلان کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں قرارداد کے حق میں 71 ووٹ آئے۔
اس کے برخلاف، متعدد عرب اور اسلامی ممالک نے گزشتہ ہفتے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں مغربی کنارے پر اسرائیلی خود مختاری کے اعلان کی مذمت کی گئی۔
یہ بیان جن ممالک اور تنظیموں کی جانب سے جاری کیا گیا ان میں سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، فلسطین، بحرین، انڈونیشیا، نائجیریا، ترکی، متحدہ عرب امارات، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم شامل ہے۔
بیان میں اعادہ کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر کوئی خود مختاری حاصل نہیں، اور اس کا یہ یک طرفہ اقدام قانونی طور پر بے حیثیت ہے۔ یہ اقدام مشرقی بیت المقدس سمیت پورے مقبوضہ فلسطینی علاقے کی قانونی حیثیت کو نہیں بدل سکتا، کیونکہ مشرقی بیت المقدس فلسطینی سرزمین کا لازمی حصہ ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات صرف خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دیں گے، جو پہلے ہی غزہ پر اسرائیلی حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی تباہی کے باعث بد ترین صورت اختیار کر چکی ہے۔
اسرائیل متعدد بار دھمکی دے چکا ہے کہ اگر فلسطینی ریاست کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کی کوششیں جاری رہیں تو وہ مغربی کنارے کو باقاعدہ اسرائیلی سرزمین میں شامل کر لے گا۔
کینیڈا نے حال ہی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست میں شمولیت اختیار کی ہے، اس سے قبل فرانس اور مالٹا بھی اس اقدام کا اعلان کر چکے ہیں۔اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر اور دیگر وزرا نے نیویارک میں دو ریاستی حل پر ہونے والی کانفرنس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی فیصلے کا جواب دیا جائے گا۔
ان کے مطابق اسرائیل فلسطینیوں سے اس کی "قیمت وصول” کرے گا، جس میں مغربی کنارے کے بعض علاقوں کو ضم کرنے اور ان پر اسرائیلی خود مختاری مسلط کرنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔








