نئی دہلی:
دہلی ہائی کورٹ نے ان ایڈیڈ (غیر امداد یافتہ) نجی اسکولوں کو اسٹوڈنٹس سے سالانہ فیس اور ڈیولپمنٹ فیس لینے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے دہلی سرکار کے ذریعہ 18 اپریل 20 و 28 کو جاری اس حکم اگست 20 کوجاری اس حکم کو رد کردیا۔ جس میں کورونا بحران کے دوران اسکولوں کے ذریعہ سالانہ فیس اور ڈیولپمنٹ فیس لینے کو غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اسکولوں کو ہمیشہ کے لیے ایسا کرنے سے روک کر رکھے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہاہے کہ دہلی سرکار کا ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ اسکولوں کو فیس طے کرنے یا فیس لینے کے معاملے میں دخل دینے کا اختیار نہیں رکھتاہے ۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بھلے ہی ریگولیر اسکول نہیں کھل پا رہے ہو ، لیکن اس کا سالانہ اور ڈیولپمنٹ فیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ریگولر اسکول نہیں کھلنے کی وجہ سے کورونا بحران کے دورا ن سالانہ ڈیولپمنٹ فیس لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہاہے کہ ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کے حکم سے اسکولوں کے کام کاج پر اثر پڑ سکتا ہے، لہٰذا سالانہ اور ڈیولپمنٹ فیس اسکولوں کو وصولنے کی کورٹ اجازت دے رہا ہے ۔








