امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور قطر تعلقات کو مثبت سمت میں لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق اسرائیلی اور قطری وزرائے اعظم نے سہ فریقی میکنزم بنانے کی صدر ٹرمپ کی تجویز مان لی ہے۔
اعلامیے کے مطابق نیتن یاہو نے افسوس کیا کہ اسرائیل نے قطر کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ہے اور یقین دلایا کہ اسرائیل مستقبل میں ایسا حملہ دوبارہ نہیں کرے ـ وائٹ ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق قطر کے وزیراعظم نے یقین دہانی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ خطے کی سلامتی کےلیے موثر کردار ادا کرنے کےلیے تیار ہیں۔اعلامیے کے مطابق غزہ میں جنگ ختم کرنے کے ایک مجوزہ منصوبے پر بھی بات کی گئی، مشرق وسطیٰ کو زیادہ محفوظ بنانے کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔
ادھراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو امن کے لیے نادر موقع قرار دیدیا۔ مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ اگرچہ غزہ میں امن کے امکانات تیزی سے معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، مگر اسی دوران نئی سفارتی راہیں بھی کھل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشاورتی عمل میں فعال طور پر شریک رہے گا۔ ساتھ ہی پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا ای- ون بستی منصوبہ دو ریاستی حل پر براہِ راست حملہ ہے
••قطر نے حماس کو امریکی امن منصوبہ پیش کردیا:قطری وزیراعظم اور مصری انٹیلی جنس چیف نے فسلطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو 20 نکاتی مجوزہ امن منصوبہ دے دیا۔حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ منصوبے کے مکمل جائزے کے بعد اپنا رد عمل دیں گے۔دوسری جانب اسلامی جہاد کے سربراہ نے امریکی منصوبے کو خطہ تباہ کرنے کا نسخہ قرار دیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے غزہ سے متعلق امریکی امن منصوبے کی حمایت کر دی ہے








