اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مسلمانوں کی گرفتاری پر سوالیہ نشان

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
مسلمانوں کی گرفتاری پر سوالیہ نشان
65
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

جاوید اختر، نئی دہلی

انتہاپسند تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں دو مسلمانوں کو اترپردیش کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ کیا جارہا ہے کہ آخر اس طرح کی گرفتاریاں الیکشن سے قبل ہی کیوں ہوتی ہیں؟

معاملہ کیا ہے؟

اترپردیش کی پولیس نے اتوار کو لکھنؤ کے قریب کاکوری تھانہ علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے اور ان کے پاس سے بڑی تعداد میں ممنوعہ اور دھماکہ خیز اشیاء برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔ اترپردیش میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت قائم ہے اور یوگی ادیتیہ ناتھ وزیر اعلی ہیں۔

یوپی پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے میڈیا کے سامنے دعوی کیا کہ منہاج اور مسیرالدین انصاری نامی دونوں افراد انتہاپسند تنظیم القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم ‘انصار غزوہ الہند‘ کے سرگرم رکن ہیں اور انہوں نے’’یوپی کو دہلا دینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ لوگ یوم آزادی سے قبل کئی شہروں میں دھماکے کرنا چاہتے تھے اور اجودھیا، کاشی اور متھرا سمیت کئی اضلاع میں دہشت گردانہ کارروائی کی سازش تیار کر رہے تھے۔‘‘

عدالت نے مذکورہ دونوں افراد کو چودہ دنوں کے لیے پولیس ریمانڈ میں دے دیا ہے۔ پولیس مبینہ طور پر دیگر مشتبہ افراد کو تلاش کر رہی ہے اور ان کے اہل خانہ سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ دونوں کے گھر والوں نے پولیس کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

سینکڑوں بے گناہ مسلم نوجوانوں کی زندگی کے قیمتی سال جیلوں میں برباد کردیے گئے

’یہ گھسی پٹی اسکرپٹ ہے‘

’ان گرفتاریوں پر سیاسی رہنماؤں، سابق پولیس افسران اور صحافیوں نے انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پولیس ‘گھسی پٹی اسکرپٹ دہرا رہی ہے۔‘

انڈین پولیس سروس کے سابق افسر اور کیرل کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر این سی استھانا نے متعدد ٹوئٹس کر کے کہا،’’القاعدہ، آئی ایس آئی ایس وغیرہ کانام بھلے ہی دنیا سے مٹ جائے یا مٹ گیا ہو، ہماری پولیس کے لیے ان کے ماڈیول ملک میں ہروقت ضرور موجود رہتے ہیں۔ جب ضرورت پڑے، پیش کردو۔ ایک ہی گھِسا پِٹا جھوٹ بولتے ہوئے یہ لوگ بیزار بھی نہیں ہوتے؟ کچھ نیا سوچو، کوئی نئی کہانی بناؤ۔‘‘

استھانا نے طنز کرتے ہوئے کہا،’’انہیں شرمندگی اور محنت سے بچنے کے لیے میرا ایک مشورہ ہے۔ ایک جنرل ایف آئی آر کا ٹمپلیٹ بنوا کر ہر تھانے کو جاری کر دیا جائے۔ جس میں ملک سے غداری سے لے کر فرقہ وارانہ خیر سگالی تباہ کرنے جیسے تمام دفعات موجود ہوں۔ جس دفعہ پر چاہیں ٹِک کردیں۔ صرف ملزم کا نام اور جگہ ڈالنے کی جگہ خالی رکھیں۔‘‘

سابق پولیس افسر کا کہنا تھا،’’حیرت کی بات ہے کہ ملزم ہمیشہ پاسپورٹ اپنے ساتھ رکھتا ہے تاکہ اس کی شناخت ہو۔ کچھ کاجو بادام بھی اس کی جیب میں ہوتے ہیں تاکہ دیر تک لڑ سکے، کچھ سفید پاوڈر جیسا دھماکہ خیز مادہ بھی ہوتا ہے۔ اکثر ایک پرچی بھی رکھتا ہے، جس میں آئی ایس آئی کی طرف سے دی گئی ہدایات درج ہوتی ہیں۔‘‘

اس سے تو لطیفوں کی کتاب تیار ہوجائے

بھارتی صحافی پرشانت ٹنڈن کا کہنا تھا،”اگر یوپی اور دہلی پولیس کی ایف آئی آر کا مجموعہ شائع کر دیا جائے تو اس سے لطیفوں کی ایک دلچسپ کتاب تیار ہو سکتی ہے۔” انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا،’’میں نے آج صبح آم خریدے، بھاؤ بھی کیا، لیکن ابھی اگر وہ آم والا میرے سامنے آجائے تو اسے پہچان نہیں پاؤں گا۔ مگر پولیس دعوی کرتی ہے کہ ایک دکاندار نے چار ماہ بعد ٹفن خریدنے والے کو فوراً پہچان لیا، حتی کہ ٹفن کا رنگ سمیت۔‘‘

پرشانت ٹنڈن کا کہنا تھایہ کتنا بڑا مذاق ہے کہ جب بھی پولیس کسی”خونخوار دہشت گرد، ماسٹر مائنڈ‘‘ وغیرہ کو گرفتار کرتی ہے تو اس کے پاس سے اردو کا ایک اخبار بھی برآمد ہوتا ہے، ”گوگل میپ اور اینڈرائیڈ فون کے زمانے میں وہ اپنی جیب میں کاغذ پر بنایا گیا ایک نقشہ ضرور رکھتا ہے تاکہ جب پکڑا جائے تو پولیس کو آسانی ہو۔‘‘

سیاسی جماعتوں کی طر ف سے نکتہ چینی

متعدد سیاسی جماعتو ں نے بھی ان مسلمانوں کی گرفتاری پر نکتہ چینی کی ہے۔ اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اور سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے پولیس کارروائی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا،”انہیں یوپی پولیس اور یوگی ادیتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر بھروسہ نہیں ہے۔‘‘

ریاست کی سابق وزیر اعلی اور بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے ٹوئٹ کرکے کہا،”یوپی اسمبلی الیکشن کے قریب آنے پر اس طرح کی کارروائی سے لوگوں کے ذہن میں شبہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر کارروائی کی پیچھے سچائی ہے تو پولیس اتنے دنوں تک بے خبر کیوں رہی؟‘‘

راشٹریہ لوک دل کے رہنما اور صحافی شاہد صدیقی نے دونوں مسلمانوں کی گرفتاری پر کہا،”یہ پرانا کھیل ہے، الیکشن سے قبل لشکر طیبہ اور القاعدہ کے نام پر گرفتاریاں شروع کر دی جاتی ہیں۔الیکشن کے بعد یہ سب غائب ہو جاتے ہیں۔غیر مسلم بھی اس کھیل کو سمجھ چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گھسا پٹا اسکرپٹ کتنی بار استعمال کرو گے۔‘‘

بی جے پی نے تاہم ان بیانات کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں قومی سلامتی جیسے حساس معاملات میں بھی سیاست کر رہی ہیں۔ اور پولیس کی کامیابی پر اس کی تعریف کرنے کے بجائے اس کا حوصلہ پست کررہی ہیں۔

خمیازہ تو مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے

حال ہی میں 120مسلمانوں کو عدالت نے باعزت بری کر دیا، جنہیں گجرات کی پولیس نے سن 2001 میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تھا

تجزیہ کاروں کا تاہم کہنا ہے کہ ایسی گھسی پٹی کہانیوں کا خمیازہ تو مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہی ہے۔ گلبرگہ کے نثار احمد سے لے کر سری نگر کے بشیر بھٹ جیسے سینکڑوں مسلم نوجوان ہیں، جن کی زندگی کے قیمتی دس بیس برس جیل کی کوٹھری میں برباد ہو گئے۔ ایسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کیسز ہیں کہ دہشت گردی کے الزام میں برسوں تک جیلوں میں رکھنے کے بعد عدالت نے انہیں بے گناہ پایا اور بری کردیا۔

حال ہی میں 120مسلمانوں کو عدالت نے باعزت بری کر دیا، جنہیں گجرات کی پولیس نے سن 2001 میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تھا۔ یہ لوگ ایک سیمینار میں شرکت کے لیے گجرات گئے تھے لیکن کسی نے پولیس سے شکایت کر دی کہ یہ لوگ دہشت گردی کا منصوبہ بنانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

اترپردیش کی بی جے پی حکومت کو قانون و انصاف کی صورت حال کے لیے اکثر نکتہ چینی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ گزشتہ جمعے کو 87 سابق بیوروکریٹس نے ایک کھلے خط میں ریاست میں قانون کی حکمرانی کی صریح خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

(بشکریہ : ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN