نئی دہلی : (ایجنسی)
کسان رہنما راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے پاکستان سے میچ ہار نے پر مجبور کیا ۔ انہوں نے کہاکہ سرکارجانتی ہے کہ ہندو- مسلم تناؤ سے ان کو ووٹ ملیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکار کو معلوم ہے کہ میچ ہارنے سے زیادہ ووٹ بی جے پی کو ملیں گے۔ اسی وجہ سے میچ ہارانے کا فیصلہ لیاگیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کو کھلاڑی بیچ کر ووٹ ملیں تو بھی وہ ایسا کریں گے ۔ اب الیکشن آرہا ہے تو کچھ نہ کچھ نیا کام ان کو چاہئے۔ ٹکیت نے کہاکہ وہ خود بھی کھلاڑی ہیں۔ ان کے جذبات بھی اس میچ میں بھارت کے ہارنے سے مجروح ہوئےہیں۔ سرکار ایک مسلم کھلاڑی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلوا رہی ہے ۔ اس کا مقصد بھی لوگوں کے درمیان جھگڑا فساد کروانا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی والے بہروپیا ہیں۔ بھکاری اور سوداگر کو ملک سے پیار نہیں ہوتا۔ بھکاری کو اس چوراہے پر بھیک نہیںملی تو دوسرے چوک پر چلا جائے گا۔ سودا گر بھی ایسا ہی کرتاہے ۔ جہاںکار وبار ملتا ہے وہ وہیں اپنا اڈہ بنا لیتا ہے ۔ پرانے لوگوں نے بی جے پی کو لوگوں کے لیے کہا تھا کہ بی جے پی کو گاؤں میں مت آنے دینا نہیں تو ناش کردے گا۔ ان کی بات سچ ثابت ہوئی۔ ملک میں ایسا ہی نظر آرہا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں بھی 2014 کے بعد ہی علم ہوا کہ بی جے پی ملک دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میچ کے بعد جو مار پیٹ ہندو مسلم کے درمیان ہوئی وہ سرکار کے اشارے پر ہوئی تھی۔ اس سے ہندو مسلمانوں کے درمیان خلیج بڑ ھ گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہندو بھی دو طرح کے ہیں ۔ ایک جو سنگھ کے اشارے پر چلتےہیں ۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک ہے ۔ دوسری طرح کے ہندو نقصان دہ نہیںہوتے، وہ امن پسند ہوتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ہی بھارت کے میچ ہارنے کے بعد ملک مخالف نعرے لگوائے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سرکار اپنے فائدے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے ۔ صحافی نے جب ان سے سوال کیا کہ ان کے بیان سے کھیل کے شائقین ناراض ہوں گے۔ ٹکیت کا کہنا تھا کہ سچ بولنے سے کون ناراض ہو گا۔ انہوں نے بی سی سی آئی کے صدرکو لے کر بھی سوال اٹھایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے بنایا کس نے ہے۔ صحافی نے جب سارے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ اپ ڈیٹ رہیں۔









