اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

رویش کمار کا بلاگ: پی ایم کی سکیورٹی میں چوک کہیں کوریج کی بھوک مٹانے کی منصوبہ بندی تو نہیں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
پی ایم کی سیکورٹی میں چوک کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، سماعت کل،چننی سرکار نے بنائی تحقیقاتی ٹیم
96
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:| فیاض احمد وجیہہ

وزیر اعظم کی سیکورٹی میں کوتاہی پر بی جے پی کا ردعمل اور میڈیا کے مباحث دونوں ایک دوسرے کاضمیمہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سکیورٹی لیپس کا مسئلہ دونوں کے لیے ایونٹ کے لیےاور پھر ایونٹ کے ذریعے ڈبیٹ کے لیے کنٹینٹ (مواد) بن کر آیا ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر، قومی سلامتی کے مشیر، ایس پی جی کی طرف سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کی ہے لیکن پنجاب کے پولیس چیف نے پریس کانفرنس نہیں کی ہے۔

بھٹنڈہ ایئرپورٹ سے حسینی والا کے قومی شہداء کی یادگار تک کا فاصلہ 111 سے 140 کیلومیٹر بتایا جا رہا ہے۔ اگر سڑک کے راستےسے گئے ہیں تو واپسی کا بھی اندازہ ہو گا کیونکہ موسم تو دن بھر خراب رہا ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے سڑک سے اتنا لمبا سفر کب کیا ہے، یاد نہیں ہے۔

دو گھنٹے تک کا سفر کرنا اور واپس آنے تک اتنی لمبی ہائی وےکو سکیورٹی سے لیس رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب سب کچھ پہلے سے طے ہو۔ اس دن یا چند گھنٹوں کے وقفےپر صرف ایمرجنسی میں ہی کیا جا سکتا ہے مگر عام طور پر نہیں۔

پنجاب میں موسم خراب تھا، اس کا پتہ دہلی سے بھٹنڈہ کی پرواز سے پہلے ہی ہو گیا ہوگا۔ کیا تبھی دورہ ملتوی نہیں کردینا چاہیے تھا؟وزیراعظم آفس کوجواب دینا چاہیے کہ یہ کب طے ہوا کہ سڑک کے راستے سےحسینی والا جاناہے؟ کیونکہ پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) نے 3 جنوری کو ایک پریس ریلیز جاری کی تھی۔ اس میں وزیراعظم کے بتائے گئے پروگرام میں حسینی والا کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

وزیر اعظم نے 5 جنوری کی صبح اسی ریلیز کو ٹوئٹ کیا۔ تب بھی حسینی والا جانے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ یہ بے حد اہم سوال ہے کہ پاکستان کی سرحد سے ملحقہ حسینی والا جانے کا پروگرام کب طے ہوا؟

چند ماہ قبل اسی مودی حکومت نے سرحد سے ملحقہ 50 کیلومیٹر کے دائرے کو بی ایس ایف کے حوالے کر دیا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔ پنجاب میں سرحد پار سے ڈرون حملوں کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کیا بی ایس ایف کو معلوم تھا کہ وزیر اعظم حسینی والا قومی شہداء کی یادگارآ سکتے ہیں؟ اس مقدس مقام پر ان کے لیے کیا تیاری تھی؟ کیا بی ایس ایف کے سربراہ وہاں موجود تھے؟ اس کا جواب نہیں ہے۔

ہم سب ابھی جان گئے ہیں کہ وزیر اعظم کی حفاظت کی ذمہ داری ایس پی جی کی ہے۔ یہ اس کا واحد کام ہے۔ایس پی جی فیصلہ کیسے لے گی، اس کا فیصلہ وزیراعظم نہیں کرتے، بلکہ یہ بلیو بک ہے، اس کےحساب سے طے ہوتا ہے۔اس کے لیے ایس پی جی، انٹلی جنس ایجنسیاں اور مقامی پولیس مل کر فیصلہ کرتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ ایس پی جی کا ہوتا ہے۔ جس کا ہدف صفر ایرر ہے۔ تو ایس پی جی کو بتانا چاہیے کہ جب حسینی والا جانے کا ،وہ بھی اتنی لمبی سڑک کے راستے طے کرنے کا فیصلہ کب ہوا؟اگر پنجاب پولیس کے سربراہ سے گرین سگنل لیا گیا تو خفیہ ایجنسی کو کیا اطلاع تھی؟

ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ وزیر اعظم کا جہاں کا بھی پروگرام ہوتا ہے، کئی دن سے پہلے سیکورٹی ایجنسیاں ضلع کا دورہ کرنے لگتی ہیں۔ ایس پی جی ایک طرح سے پولیس کو اپنے ماتحت کر لیتی ہے۔ تو سیکورٹی اداروں کے ان پٹ کیا تھے؟ کیا انٹلی جنس اداروں نے پنجاب پولیس کے سربراہ کا گرین سگنل منظور کر لیا تھاکہ راستہ بالکل صاف ہے، کوئی خطرہ نہیں ہے؟

صحافی میتو جین نے اپنے ٹوئٹ میں کئی اہم سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسان راستہ روکے تھے تو ایس پی جی نے وہاں وزیر اعظم کو بیس منٹ تک انتظار کیوں کرایا؟

So if the SPG decided to travel by road, it was as per plan. If not, the SPG chief needs to be sacked. If the state DGP gave clearance that the route had been sanitized when it wasnt, he needs to put in his papers for deliberately misleading the SPG. 7.

— meetu jain (@meetujain) January 5, 2022

جو ویڈیو جاری کیا گیا ہے وہ وزیراعظم کے قافلے کی طرف سےہے۔ میتو جین کا یہ سوال بھی ہے کہ فوٹوگرافر کو قافلے کے سامنے جاکرویڈیو بنانے کی اجازت کیوں دی اور تصویر میں نظر آرہا ہے کہ ایس پی جی وزیر اعظم کی گاڑی کے دائیں بائیں کھڑی ہے مگر سامنے نہیں۔ اتنا کھلا کیوں چھوڑا گیاہے؟ان سوالوں کے ساتھ میتو جین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کوتاہی ہوئی ہے تو ایس پی جی کے سربراہ کو برطرف کر دینا چاہیے۔ ابھی تک مرکزی حکومت نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

پنجاب حکومت کا رول ہوسکتا ہے لیکن وزیراعظم کی سکیورٹی کے معاملے میں اس کا رول ایس پی جی کے ماتحت ہوتاہے۔ وزیر اعظم کہاں جائیں گے اور ان کے قریب کون بیٹھے گایہ سب ایس پی جی طے کرتی ہے۔اس لیے سب سے پہلے کارروائی مرکزی حکومت کی طرف سے ہونی چاہیے۔اگر پنجاب پولیس نےایس پی جی کو غلط اطلاع دی کہ راستہ صاف ہے، وزیراعظم 140 کیلومیٹر کا سفر سڑک کے راسے طے کر سکتے ہیں تو پھرپنجاب پولیس کے سربراہ کو استعفیٰ دینا چاہیے لیکن پھر سوال یہ اٹھے گا کہ انٹلی جنس ایجنسیوں نے کیا جانکاری دی تھی، اگر انہوں نے بھی غلط جانکاری دی تو انٹلی جنس ایجنسی کو بھی برخاست کردینا چاہیے۔

کیا تمام ایجنسیوں کو نہیں پتہ تھا کہ وزیراعظم کی پنجاب آمد سے قبل ہی جگہ جگہ کسانوں کے مظاہرے جاری تھے جس کا اعلان انہوں نے 2 جنوری کو کردیا تھا۔ پھر اتنا جوکھم کیوں لیا گیا؟کیا یہ پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے یا مرکزی حکومت کی؟ قاعدے سے وزیر داخلہ امت شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے، لیکن یہ سب اب پرانی باتیں ہو چکی ہیں۔ساری کوشش ڈبیٹ پیدا کرنے کی ہے۔ڈبیٹ کے لیےکنٹینٹ ایونٹ سے آئے گا تو بی جے پی کے لیڈرمہامرتیونجے جاپ کرنے لگے۔آناً فاناً میں اس طرح سےمہامرتیونجے جاپ تو نہیں ہوتا ہے۔شیوراج سنگھ چوہان نے ٹوئٹ کیا کہ مہامرتیونجے جاپ کرنے جا رہے ہیں اور پجاری کہہ رہے ہیں کہ وہ گنپتی کی پوجا کرکے چلے گئے۔ کیا اس کو ایک نوٹنکی کے خانے میں نہیں رکھا جانا چاہیے؟

سیکورٹی کے بنیادی سوالوں کو چھوڑ کر پوجا پاٹھ کے پروگرام ہونے لگے تاکہ گودی میڈیا کواگلے دن بحث اور کوریج کے لیے مواد دے سکیں اور صرف مودی مودی ہوتا رہے۔وزیراعظم کی سکیورٹی میں کوتاہی ہوئی ہے۔ اس سوال کو ریلی میں کتنے لوگ آئے، کتنے نہیں آئےاسے لے کر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔ ہر حکومت ریلیوں کا راستہ روکتی ہے۔ بات ہے کہ سو کیلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ سڑک سےطے کرنے کا فیصلہ کب ہوا؟ کیا اس سے پہلے پی ایم مودی نے سڑک کےسے اتنا طویل سفر کیا ہے؟

سنیکت کسان مورچہ نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ وہاں کے مظاہرین کسانوں کو اس کی پختہ جانکاری نہیں تھی کہ وزیر اعظم کا قافلہ وہاں سے گزرنے والا ہے۔ انہیں تو وزیراعظم کی واپسی کے بعد میڈیا سے پتہ چلا۔ مورچہ نے یہ بھی کہا کہ قافلے کے قریب مظاہرین نہیں گئے۔ لیکن بی جے پی کے حامی بی جے پی کا جھنڈالے کر کیسے چلے گئے؟سرکاری طور پر کوئی کچھ نہیں بول رہا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایک بیان آیا ہے جو پی آئی بی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں حسینی والا جانے کی بات لکھی ہے لیکن یہ نہیں لکھا کہ پروگرام پہلے سے طے تھا۔ وزیراعظم حسینی والا ہیلی کاپٹر سے جا رہے تھے اس کی جانکاری کسے تھی؟

پھر اس کا ذکر وزیراعظم کے پروگرام میں کیوں نہیں تھا جسے خود انہوں نے5 جنوری کو جاری کیا تھا۔ حسینی والا اور جلسہ گاہ میں کوئی 10-12 کیلومیٹر کا فاصلہ ہے تو ایک جگہ کے سفر کو خفیہ رکھنے کی بات بہت جمتی نہیں ہے۔چلتے چلتےایک بڑا سوال اور ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے حوالے سے ایک خبر آتی ہے کہ ‘اپنے سی ایم کو تھینکس کہنا، میں بھٹنڈہ سے زندہ لوٹ آیا’۔اے این آئی کے مطابق وزیر اعظم نے یہ بات ہوائی اڈے پر حکام سے کہی۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کن عہدیداروں سے یہ بات کہی اور اے این آئی نے اسے چھاپ دیا اور یہی ہیڈ لائن ہر جگہ بنتی ہے۔

اس لائن سے جذبات میں ابال لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن یہ واضح نہیں کہ وزیراعظم نے ایئرپورٹ پر کن سے بات کی؟ ان اہلکاروں نے کیا پنجاب کے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ وزیراعظم کا ایسا کوئی پیغام ہے؟اگر اس کاجواب نہیں آتا ہے تویہ مان لیا جائے کہ اے این آئی کی یہ خبر شک وشبہ سے بالاتر نہیں ہے۔ کیا اس طرح کی سرخی بنےایساکچھ سوچ کر جاری کیا گیا؟ آپ نے کسی کوریج میں دیکھا کہ صحافی ان افسران کو ڈھونڈ رہے ہیں، ان سے بات کر رہے ہیں؟

آپ کی تقدیر کا فیصلہ نوٹنکیوں سے نہیں ہونا چاہیے۔ٹھوس سوالوں اور جوابوں سے ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کا ٹریک ریکارڈ رہا ہے کہ وہ خود کو ایشو بناتے ہیں۔ نوٹ بندی کے دوران جب لوگ بھوکے مر رہے تھے تو وزیر اعظم نے پہلے بیرون ملک ان کا مذاق اڑایا لیکن ہندوستان آکر رونے لگے۔ اس طرح کا ریکارڈ رہا ہے۔اس بار ایسا نہیں ہوا ہے اس لیے سوالوں کا سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔ سرکاری طور پر دیا جانا چاہیے۔ باقی آپ میم بناتے رہیے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں :بشکریہ:دی وائر)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN