لکھنؤ:
بدنام زمانہ ،اسلام و مسلم دشمن ،سرکار کی خوشنودی کے لیے کسی بھی حد کو پار کرجانے والے وسیم رضوی کو سپریم کورٹ سے پھٹکار کھانے کے بعد اور رسوا ہونے پر بھی شرم نہ آیاب اس شخص نے قرآنی آیات کے بارے میں وزیر اعظم کو خط لکھ کر التجا کی ہے کہ آپ ہی کچھ کرئیے۔
نیوز 18 ہندی کی رپورٹ کے مطابق قرآن کریم میں 26 آیات کو ہٹانے کے لیے شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھا ہے۔ وسیم رضوی نے وزیر اعظم کو خط لکھتے ہوئے کہاکہ مدراس میں بچوں کو قرآن کی ان آیات کو پڑھایا جا رہاہے ،جس سے ان کا ذہن بنیاد پرستی کی طرف گامزن ہو رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ان 26 آیات میں تشدد کی تعلیم دی گئی ہے اور کوئی بھی ایسی تعلیم جو دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے اسے روکا جانا چاہئے۔

اس سے قبل دارالحکومت لکھنؤ میں وسیم رضوی نے کہا تھا کہ قرآن کی چند آیات دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں اور انہیں ہٹانا جانا چاہئے تاکہ دہشت گردی سرگرمیوں سے مسلمان نام نہ جڑیں۔ اس کے لیے شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین رضوی نے عدالت سے رجوع کیا تھاتاکہ آیات ہٹائی جاسکیں، اس کے رد عمل میں لکھنؤ میں رضوی کے پتلے نذر آتش کئے گئے او ر اس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔








