نئی دہلی : (ایجنسی)
ونائک دامودر ساورکر کا ہندوتوا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے الگ تھے اور سنگھ کے ساتھ ان کے رشتے اتار چڑھاؤ والے تھے۔ تاریخ دان ڈاکٹر وکرم سمپت نے یہ باتیں ہفتہ کو نئی دہلی میں منعقدہ ‘’ایجنڈا آج تک‘ کے اسٹیج پر کہیں۔ ڈاکٹر وکرم سمپت کے علاوہ تاریخ دان چمن لال اور سواتنتریہ ویر ساورکر نیشنل میموریل کے رنجیت ساورکر نے بھی ‘’ساورکر کے نام پر‘ سیشن میں حصہ لیا۔ پروگرام میں تینوں نے ساورکر کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔
تاریخ دان ڈاکٹر وکرم سمپت نے کہا، ’’ہم ہندو راشٹر کے بارے میں جو خیال رکھتے ہیں وہ بھی بہت غلط ہے۔ یہ بھی لوگ نہیں جانتے ہیں کہ ساورکر آر ایس ایس کا حصہ نہیں تھے۔ ان کے بڑے بھائی بابا راؤ آر ایس ایس کے بانیوں میں تھے، لیکن ساورکر اور سنگھ کے درمیان تعلقات میں ہمیشہ اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ جب گولوالکر جو آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک تھے، تب ان کے ساتھ کافی اختلافات تھے۔ انہوں نے ایک بہت مشہور بیان دیا کہ اگر آر ایس ایس کے سیو سیوک کی سمادھی پر کچھ لکھا جائے کہ اس کی زندگی میں کیا کارنامہ رہا، تو صرف تین باتیں ہوں گی۔پہلی وہ پیدا ہوئے، پھر آر ایس ایس میں شامل ہوئے اور پھر مر گئے۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی اور کارنامہ نہیں ہے۔ ساورکر کا ہندوتوا الگ ہے۔ آر ایس ایس کا ہندوتوا کا تصور الگ تھا اور گوڈسے کا ہندوتوا الگ تھا۔‘‘
پروگرام میں جب مورخ ڈاکٹر وکرم سمپت سے سوال کیا گیا کہ ساورکر کا ہندوتوا کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے ہندوتوا کا تصور تب کیا جب وہ رتناگیری جیل میں تھے۔ اس وقت ملک بھر میں خلافت کی تحریک چل رہی تھی۔ انہوں نے ایک کتاب میں لکھا کہ آخر کون ہندوہے؟ یہ دھرم سے جڑی ہوئی چیزنہیں ، بلکہ ثقافتی اور قوم پرستی سے جڑا ہواہے، جو کہ اس ملک سے اپنی وفاداری رکھتا ہے۔ بعد میں جب وہ ہندو مہاسبھا کے صدر بنے تو انہوں نے تمام تقاریر میں واضح طور پر اس کے بارے میں بات کی تھی۔ ان کے مطابق ہندو راشٹر میں کوئی اکثریت یا اقلیت نہیں ہوگی۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے۔ اکثریت کو کچھ چیزیں نہیں ملیں گی کہ وہ اکثریت میں ہیں اور اقلیتوں کو کچھ رعایتیں نہیں دی جائیں گی کہ وہ اقلیت ہیں۔ قانون کے مطابق سب برابر ہوگا۔
ساور کرنے انگریزوں کےخلاف بھوک ہڑتال سے خود کو دوررکھا
وہیں مورخ چمن لال نے ساورکر کی رحم کی درخواستوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا کہ انڈمان جیل میں 498 سیاسی قیدی تھے اور ان میں سے زیادہ تر انقلابی جذبات کے حامل تھے۔ ان میں شہید بھگت سنگھ کے ساتھی اور کئی دوسرے قیدی وہاں بند تھے۔ ایک قیدی ترلوک ناتھ چکرورتی 40 سال سے زیادہ انڈمان میں مقیم رہے۔ بھگت سنگھ کے ساتھی 16-17 سال تک رہے۔ اسی وقت ساورکر صرف 10 سال تک رہے۔ انہوں نے کہا، ’بھگت سنگھ کے ساتھیوں اور دیگر نے انگریزوں کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی۔ لیکن ساورکر نے کوئی بھوک ہڑتال نہیں کی۔ سات آٹھ افراد شہید ہوئے۔ ساورکر سے کہا گیا تھا کہ وہ بھی بھوک ہڑتال کریں، لیکن ساورکر اس سے دوری بناکر رکھتے تھے۔ چمن لال نے کہا، ’میں رحم کی درخواست دینے کو برا نہیں سمجھتا ہوں،یہ ان کا حق تھا۔‘
ساورکر نے ہندو سماج کو منظم کیا
ڈاکٹر وکرم سمپت نے پروگرام میں کہا کہ ان کے لیے ساورکر ایک شدید محب وطن، انقلابی اور سماجی مصلح تھے، جنہوں نے ہندو سماج کو منظم کیا۔ نیز، وہ ایک زبردست جنگجو اور بہادر تھے۔ ڈاکٹر سمپت نے ساورکر کے بارے میں بتایا کہ اگر وہ انگریزوں کے حق میں ہوتے تو ان کی جاسوسی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر عام آدمی نہیں تھے۔ انہوں نے بیرون ملک وکالت کی تھی۔ ان کا حکومت میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔ 1937 میں جب حکومتیں بننا شروع ہوئی گئیں تو انہیں بھی عہدہ دیا جا سکتا تھا اگر وہ انگریزوں کے حق میں ہوتے تو لیکن جب سال 1924 میں ان کی رہائی ہوئی تو شرط رکھی گئی کہ پانچ سال سیاست سے دوررہنا ہے اور پھر رتنا گیری میں ہی نظر بند کرکے رکھاجائےگا۔










