گزشتہ سال وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ایک بغاوت کے ذریعے معزول کر دیا گیا تھا۔ وہ ڈھاکہ سے فرار ہوکر بھارت ۔یں ہنسی گزیں ہوگئیں ۔ یہ پہلا موقع ہے جب سابق پی ایم بنگلہ دیش شیخ حسینہ نے ہندوستان آنے کے بعد کھل کر بات کی ہے۔ CNN-News18 کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ کوئی اصلاحات یا تحریک نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی بغاوت تھی۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ موجودہ حکومت میں انتہا پسند قوتیں زور پکڑ رہی ہیں، جو ملک کے استحکام اور اقلیتوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ بات چیت میں، انہوں نے اپنی بے دخلی میں مغربی ممالک کے ملوث ہونے کی تردید کی اور اس کی پناہ اور تحمل کے لیے بھارت کا شکریہ ادا کیا۔
اس سوال پر کہ کیا وہ اپنے ملک کی سیاست میں واپسی کریں گی ؟انہوں نے کہا کہ میری زندگی بنگلہ دیش کی ترقی کے لیے وقف ہے۔ عوامی لیگ کسی ایک خاندان کی جماعت نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے عوام کی آواز ہے۔ ملک کا مستقبل اسی صورت میں محفوظ ہو گا جب آزادانہ، منصفانہ اور شمولیتی انتخابات ہوں گے۔ میرا سیاست میں واپسی کا واحد مقصد ملک کو آئینی راستے پر لوٹانا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ بھارت سے کیا امید کرتی ہیں ؟شیخ حسینہ نے کہا کہ بھارت پہلے ہی پناہ اور سفارتی مدد فراہم کر چکا ہے۔ عوامی لیگ کو کسی اندرونی تعمیر نو کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اسے لاکھوں لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ ہمیں صرف ہندوستان اور دیگر علاقائی ممالک کو بنگلہ دیش میں جمہوری انتخابات کے مطالبے کو زور سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ یونس حکومت دراصل حزب التحریر جیسے انتہا پسند گروپوں کے زیر اثر ہے۔ میں ہندوستان اور علاقائی ممالک سے یونس کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا مطالبہ جاری رکھنے کی اپیل کرتی ہوں۔ بنگلہ دیش کو بچانے کا یہی واحد راستہ ہے۔
بنگلہ دیش میں اقتدار سے بے دخلی یا انقلاب پر ان کا کہنا تھا اگست کے اوائل تک جو طلباء کا پرامن احتجاج تھا وہ اچانک ایک پرتشدد ہجوم میں تبدیل ہو گیا۔ اب یہ کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کا احتجاج نہیں تھا، بلکہ بنیاد پرست انتہا پسند گروپوں کا قبضہ تھا۔ بعد ازاں، جب محمد یونس نے گزشتہ سال کے تشدد کے تمام ذمہ داروں کو فوری طور پر بری کر دیا اور ہماری بنائی گئی انکوائری کمیٹی کو ختم کر دیا، تو یہ واضح ہو گیا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ پہلے سے ہی تیار کر لیا گیا تھا۔ اس وقت ڈھاکہ چھوڑنا نہ صرف میری بلکہ میرے اردگرد کے لوگوں کی بھی حفاظت کا معاملہ تھا۔








