نئی دہلی :(ایجنسی)
سپریم کورٹ نے منگل (26 اکتوبر، 2021) کو کہا کہ وہ 2002 کے فسادات کےدوران گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے نریندرمودی سمیت 64 لوگوں کو کلین چٹ دینے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم ( ایس آئی ٹی) کی کلوزر رپورٹ اور اسے قبول کرتے وقت مجسٹریٹ عدالت کےذریعہ دئےگئے جوازکو دیکھنا چاہے گا۔ جسٹس اے ایم کھانولکر، دنیش مہیشوری اورجسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے کانگریس لیڈر مرحوم احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی عرضی پر سماعت شروع کی، جس میں ان کے وکیل کپل سبل کے ذریعہ سے ایس آئی ٹی کی کلین چٹ کو چیلنج کیا گیا ہے ۔
عدالت نے کہا کہ ’’ہمارا بڑی شخصیات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سیاست دان کچھ بھی نہیں ہوتاہے۔ ہم لاء اینڈ آرڈر اور ایک شخص کے حقوق کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔‘‘ سینئر وکیل نے کہاکہ وہ اب جعفری کی شکایت میں نامزد لوگوں کی سزا نہیں چاہتےہیں اور ان کا معاملہ یہ ہے کہ’ ’ ایک بڑی سازش تھی جہاں بیورو کریٹس کی غیر فعالیت، پولیس کی ملی بھگت ، اشتعال انگیز رہے اور تشدد کو بڑھاوا دیا گیا۔ ‘‘
بنچ نے کہاکہ ’ہم کلوزر رپورٹ ( ایس آئی ٹی ) میںدئے گئے جواز کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم رپورٹ قبول کرنے کےمجسٹریٹ کے حکم اور ان کے وکیل کو صوابدید کو دیکھنا چاہتے ہیں۔‘سینئر وکیل نے عدالت عظمیٰ کے احکامات ، ایس آئی ٹی اورنیائے متر راجو رامچندرن کی رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کلین چٹ اور بعد میں نچلی عدالتوں کےذریعہ اس کی قبولیت گلبرگ سوسائٹی معاملے تک محدود نہیں تھا جس میں 28 فروری 2002 کو احمد آباد میںمارے گئے 68 لوگوں میں احسان جعفری شامل تھے ۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسے صرف گلبرگ تک محدود رکھتےہیں تو قانون کی حکمرانی کےتصور کا کیا ہوگا۔ تماممواد کا کیاہوگا۔ عدالت جو کرتی ہے اس کی بنیادپر ایک جمہوری طلوع ہوتا ہے یاگر جاتا ہے ۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ اصل شکایت ذکیہ جعفری نے دائر کرائی تھی، جو احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں رہتی تھیں۔ گودھرا میں سامبرتی ایکسپریس کے ایس 6- کوچ میں آگ لگائے جانے سے 59 لوگوں کی موت اور گجرات میں فساد بھڑکانے کے ایک دن بعد 28 فروری 2002 کو احمد آبادمیں گلبرگ سوسائٹی میں مارے گئے 68 لوگوں میں سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری بھی شامل تھے ۔
ہائی کورٹ نے اکتوبر 2017 کے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ایس آئی ٹی جانچ کی نگرانی سپریم کورٹ کےذریعہ کی گئی تھی، حالانکہ آگے کی جانچ کے تعلق سے اس نے ذکیہ جعفری کی عرضی کو جزوی طور پر قبول کرلیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ عرضی گزار کےذریعہ آگے کی جانچ کے لیے مجسٹریٹ کی عدالت، ہائی کورٹ کےڈویژن بنچ یا سپریم کورٹ سمیت کسی بھی مناسب فورم کا رخ کیا جاسکتا ہے ۔









