نئی دہلی :
جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے سے لے کر سی اے اے-این آر سی اور کسان آندولن تک کے مسئلے پر بین الاقوامی میڈیا کی تنقید کا شکار ہوچکی مرکز سرکار اب اس سے نمٹنے کے لیے نئی ترکیب کے ساتھ آئی ہے ۔ نیشنل براڈ کاسٹ پرسار بھارتی نے حال ہی میں ایک ایڈوائزر کے لیے ٹینڈر نکالا ہے ،جو کہ حکومت کا بین الاقوامی موجودگی والاچینل لانچ کرانے کا منصوبہ تیار کرے گا۔
پرسار بھارتی کے عہدیداروں کے مطابق یہ ٹینڈر اچانک سے ہی نہیں نکالا گیا ہے، بلکہ اسے لے کر کافی عرصہ سے غور وخوض چل رہا تھا۔ پرسار بھارتی میں ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے کام کرنے والے ایک افسر نے تو یہاں تک کہاکہ یہ آئیڈیا گزشتہ 10 سالوں سے تھا، لیکن ہر بار پرسار بھارتی میں قیادت بدلنے کے ساتھ اس پر تھوڑا ہی کام ہوپایا۔ افسرنے بتایاکہ دوردرشن کو جب انگریزی چینل بنایا گیا تھا، تب اسے بین الاقوامی چینل کے طور پر نشر کرنے کی بات ہوئی تھی، لیکن آخر میں یہ اصل دور درشن چینل کی نقل بن کر رہ گیا۔
بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی چینل کی لانچنگ سے پہلے اس کی مشاورتی سروس کے لیے 13 مئی کو ایکسپریشن آف انٹرسٹ (ای او آئی ) نکالا گیا تھا، اس میں صاف کیا گیا ہے کہ ڈی ڈی انٹرنیشنل چینل کے قیام کے لیے صلاحکار کو ڈیجیٹل پروجیکٹ رپورٹ کے ساتھ پیش ہوناہوگا۔ اس ای او آئی میں کہا گیا ہے کہ دور درشن کی عالمی سطح پر موجودگی درج ہو اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کی آواز اٹھانے کی سفارتی ہدف کے لیے ڈی ڈی انٹرنیشنل کے قیام کا تصور کیا گیا ہے ۔ اتنا ہی نہیں دنیا کی ایسی مشہور ومعروف مشاورتی ایجنسیوں سے ایک تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ حاصل کی جائے گی ، جن کے پاس پہلے سے ہی کچھ بین الاقوامی نشریاتی اداروں اور میڈیا ہاؤسز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہوگا۔
ٹینڈر کے مطابق نئے چینل کے ذریعہ بین الاقوامی اور گھریلو معاملات پر ہندوستان کے خیالات رکھے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی اصل کہانی بھی عالمی ناظرین تک پہنچائی جائے گی۔ ٹینڈر سے یہ بات تقریباً واضح ہے کہ سرکار اس چینل کے لیے دنیا بھر میں بیورو قائم کرے گی اور اس کے لئے صلاحکار ہی لوکیشن کی شناخت سے لے کر روڈمیپ تیار کرنے میں مصروف ہوں گے۔ اس چینل کے ساتھ24×7ورلڈ سروس اسٹریم کی شروعات کرنے پر بھی غور وخوض کیا جا رہاہے ۔
پرسار بھارتی کے سی ای او ششی ویمپتی نے کہا کہ پرسار بھارتی کے بورڈ نے مارچ میں اس پروجیکٹ کی منظوری دی تھی۔ بتادیں کہ پرسار بھارتی کے بورڈ میں ابھی چیئرمین، مالیاتی ممبر اور دیگر اہلکاروں کے عہدے خالی ہیں۔ اس کے باوجود ویمپتی کا کہنا ہے کہ یہ خالی عہدے اب تک ہوئے فیصلوں پر اثر نہیں ڈالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس روڈ میپ کو چھ سے آٹھ مہینے میں پوراکرنے پر غور کیا جا رہاہے، لیکن کورونا کی وجہ سے اس میں کچھ دیری بھی ہونے کے امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ دور درشن کی بین الاقوامی موجودگی بھارت کے لیے کافی وقت سے ضروری تھی۔ پہلے یہ نئی سروس بی بی سی ورلڈ سروس کی طرح ہی خبروں پر مشتمل رہے گی،لیکن بعد میں اسے بھارت کی ثقافت کی بنیاد پر تبدیل کیا جائے گا۔








