متھرا :(ایجنسی)
یوپی کا متھرا ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ اس لیے پولیس نے پیر کو شری کرشن جنم بھومی مندر کے سامنے سے چار لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ معلومات کے مطابق، یہ چاروں لوگ شری کرشن جنم بھومی کے مرکزی دروازے پر ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ الزام ہے کہ حراست میں لیے گئے چار افراد اشتعال انگیز باتیں بھی کر رہے تھے۔
کچھ ہندو تنظیموں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 6 دسمبر کو یعنی آج کے دن شاہی مسجد کے اندر بھگوان کرشن کے بچے والی مورتی نصب کرنےاور جل ابھیشیک کیا جائے گا۔ اس کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر چپے چپے پر پولیس تعینات کی گئی تھی۔ تاکہ شہر میں امن وامان میں خلل نہ پڑے۔ شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔
پیر کے روز حراست میں لیے گئے چاروں افراد نے خود کو برسانہ کا رہائشی بتایا۔ اس کے بعد وہ جئے شری رام کے نعرے لگانے لگے۔ تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ ان چاروں افراد کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔ پولیس اس بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔
بتا دیں کہ گزشتہ ماہ اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی رہنما راج شری چودھری نے کہا تھا کہ وہ 6 دسمبر کو شاہی مسجد میں بھگوان کرشن کی مورتی نصب کریں گے۔ اس کا جل ابھیشیک کریں گے۔ اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے اس اعلان کی شری کرشن جنم بھومی نرمان نیاس، نارائنی سینا اور شری کرشن مکتی دل نے بھی حمایت کی ہے۔










