سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے بدھ کو لوک سبھا میں ایک بیان دیا جس سے سیاسی ہلچل مچ گئی۔ انہوں نے لوک سبھا میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ محمود مدنی کے جہاد سے متعلق ریمارکس کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ ملک میں مسلم کمیونٹی پر ظلم ہو رہا ہے۔ ایوان میں مولانا مدنی کی بالواسطہ حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں دوبارہ لڑنا پڑ سکتا ہے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف جہاد کرنا پڑ سکتا ہے، کب تک ملک میں اس طرح مسلمانوں پر ظلم ہوتا رہے گا۔
وقفہ صفر کے دوران محب اللہ ندوی نے وقف املاک کے اندراج میں مبینہ مشکلات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 70 فیصد وقف املاک امید پورٹل پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آرٹیکل 25 اور 26 کو ختم کر دیا گیا ہے اور ہمارے پیارے وطن میں مسلمانوں کا جینا مشکل کر دیا گیا ہے۔ مولانا مدنی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں دوبارہ لڑنا پڑے گا اور ظلم اور ناانصافی کے خلاف جہاد کرنا پڑے گا۔ کب تک ملک میں مسلمانوں پر اس طرح ظلم ہوتا رہے گا؟مولانا کے اس بیان سے سماجوادی پارٹی کو بی جے پی کے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،واضح رہے مولانا ندوی اکھلیش یادو کے قریبی مانے جاتے ہیں








