اندور: (ایجنسی)
نئے سال(یکم جنوری)پرمبینہ طورپر مذہبی جذبات مجروح کرنے کے لیے اسٹینڈاپ کامیڈین منور فاروقی کے ساتھ گرفتار کیے گئے اندورکے کامیڈین نلن یادو نے اب الزام لگایا ہے کہ پچھلے ہفتے انہیں اندور میں ایک بار (شراب خانہ)میں جانے پر ’جے شری رام‘اور’بھارت ماتا کی جے‘کے نعرے لگانے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق گرفتاری کے ایک مہینے بعد ضمانت پانے والے یادو نے کہا ہے کہ گزشتہ12 اگست کو جب وہ ایک بار میں تھے، تب ایک گروپ کے لوگ ان کے پاس آئے اور پوچھا کہ ’ملوں‘کی حمایت کیوں کی اور ان کے جیل میں جانے والے تنازع کے بارے میں بھی پوچھا۔یادو نے اپنی پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کی لیکن گروپ کو تسلی نہیں ہوئی اور انہیں’جے شری رام‘ اور’بھارت ماتا کی جے‘کے نعرے لگانے کے لیے مجبور کیا۔
یادو نے انسٹاگرام پر لکھا، ’انہوں نے پوچھا کہ تم ہاتھ میں سگریٹ لےکربھگوان کا نام کیوں لے رہے ہو اور میرے ہاتھ سے سگریٹ چھین لیا۔ میں نے انہیں بتانے کی کوشش کی کہ بھگوان ہر جگہ ہے،لیکن وہ سننے کو تیار نہیں ہوئے۔ میں بے بس محسوس کر رہا تھا اور اس لیے میں نے معافی مانگ لی۔‘
یادو نے کہا کہ وہ دوبارہ اپنی زندگی پٹری پر لانے کے لیےجدوجہدکر رہے ہیں اورگرفتاری کے بعد انہیں مزدور کے طور پر ایک فیکٹری میں بھی کام کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا، ’میں نے دیکھا تھا کہ کیسے پولیس اور انتظامیہ گرفتاری کے دوران ان کے ساتھ پیش آئی تھی۔‘









