نئی دہلی : (ایجنسی)
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے خلاف لڑائی کو مضبوط بنانے کے لیے کانگریس بڑے پیمانے پر درج فہرست ذات و قبائل ، پسماندہ طبقات، اقلیتوں برادریوں کے لوگوں کےعلاوہ خواتین کو اپنے ساتھ جوڑنے کی تیاری کررہی ہے۔ تنظیمی انتخابات کےتحت رکنیت سازی مہم کےدوران ان طبقات پر خاص توجہ مرکوزکیاجائے گا، تاکہ ان کے درد کو پارٹی اپنے ساتھ شیئر کرسکے ۔
کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں پارٹی جنرل سکریٹری، انچارج اور ریاستی صدور کی میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے رندیپ سرجے والا نے کہا کہ پارٹی نے حکومت کے خلاف ایک بڑی نظریاتی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے چھوٹے کارکنوں سے لے کر بڑے لیڈروں کو تربیت دی جائے گی، تاکہ وہ بی جے پی کے پروپیگنڈے کا جواب دے سکیں۔
سرجے والا نے کہا کہ راہل گاندھی نے میٹنگ میں زور دیا کہ ہمارے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا ہے۔ اور وہ ایک بڑے پیمانے پر نچلی سطح پر تحریک چلانا ہے۔ پارٹی نے مہنگائی کے خلاف عوامی بیداری مہم کا پہلا مرحلہ 14 نومبر سے شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف عوام کو جوڑ کر دھرنا مظاہرے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں بہت سے لوگوں نے تسلیم کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے نفرت انگیز ایجنڈے کی وجہ سے جمہوریت خطرے میں ہے۔ بی جے پی-آر ایس ایس آئین اور جمہوریت پر حملہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں ان زخموں کو بھرنے کے لیے ہم سب کو مل کر فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی۔ اس کے لیے لوگوں کو کانگریس کے نظریہ سے جوڑنا بھی بہت ضروری ہے۔
گوا کے سابق گورنر ستیہ پال ملک (موجودہ میگھالیہ کے گورنر) کی طرف سے گوا حکومت کے کام کاج کے بارے میں کئے گئے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے سرجے والا نے کہا کہ گوا کے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے۔ یہی نہیں سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی سربراہی میں معاملے کی تحقیقات کرائی جائے، تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔









