نئی دہلی(آر کے بیورو)
دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار ا ور سید عابد حسین سیکنڈری اسکول کے پرنسپل کو یونیورسٹی کے زیر انتظام اسکول کی ادا شدہ زمرہ کی نشستوں پر داخلوں میں مبینہ اقربا پروری اور جانبداری سے متعلق معاملے میں طلب کیا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق جسٹس پرتیک جالان نے جمعہ کو جاری کردہ ایک حکم میں کہا کہ اس سال ہونے والے داخلوں سے متعلق متعلقہ ریکارڈ بھی عدالت کے مشاہدے کے لیے دستیاب کرایا جائے۔ عدالت نے معاملے کی سماعت 12 دسمبر کو مقرر کی ہے۔عدالت نے پچھلے مہینے دیے گئے ایک حلف نامے میں کہا تھا کہ مزید داخلے، جو اسکول کے ذریعہ کیے گئے جبکہ 2021-22 کے پراسپیکٹس میں تذکرہ نہیں تھا۔ رٹ درخواستوں کے نتیجے کے ساتھ مشروط ہوں گے۔ یونیورسٹی نے 25 نومبر کو عدالت کو بتایا کہ وہ خالی نشستوں پر داخلے کے لیے ایک منصفانہ اور شفاف پالیسی وضع کرنے کے عمل میں ہے، جو طلباء کے اسکول چھوڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔
ایڈووکیٹ ارم پیرزادہ کے توسط سے دائر درخواستوں میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسکول میں خالی آسامیوں کی اطلاع دیے بغیر اور ان آسامیوں کو بھرنے کے لیے درخواستیں طلب کیے بغیر مختلف کلاسوں میں داخلے دیے گئے۔
پانچ سالہ بچے کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ جن امیدواروں کو داخلہ دیا گیا تھا، انھوں نے کبھی درخواست نہیں دی تھی اور کچھ نے ان کلاسوں میں داخلہ لیا تھا جس میں کسی سیٹ کا اشتہار نہیں دیا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ’درخواست گزار کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جواب دہندہ اسکول مبینہ طور پر ایک فہرست سامنے لایا ہے جس کی بنیاد پر وہ مکمل طور پر خفیہ اور مشکوک طریقے سے داخلہ دیے رہا ہے۔‘










