اردو
हिन्दी
اکتوبر 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بدنصیب افغان تقدیر چالیس سال بعد بھی نہیں بدلی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
بدنصیب افغان تقدیر چالیس سال بعد بھی نہیں بدلی
73
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

اچھائی اور برائی دونوں کے اعتبار سے دنیا گول ہے۔ ماضی بعید کی دنیا میں یہ گولائی محدود نوعیت کی تھی جس میں سماجی برائی پر اچھائی کے حاوی ہونے، پھر کچھ دہائیوں کے بعد برائی کے دوبارہ سر اٹھانے اورپھر اُس کا سر کچلنے کا سلسلہ جاری رہا کرتا تھا۔ زمانے کی رفتار نے جب ایک ہی دنیا کو پسماندہ، ترقی پذیر اور ترقی یافتہ خانوں میں بانٹا تو گولائی در گولائی پھیلتی دنیا میں گولائیوں کے محور بھی الگ ہوتے گئے۔ زمانے کی بڑھتی رفتار کو جب اطلاعاتی تیکنالوجی کی مہمیز لگی تواُسی مناسبت سے ان محوروں کی جگہیں بھی بدلتی گئیں۔

تازہ منظر نامے میں اچھائی کے لحاظ سے گول دنیا کا ایک محور خلیج رخی مغربی ایشیا ہے تو برائی کے لحاظ سے دوسرا محورافغان رخی جنوبی ایشیا۔ دونوں جگہ خاکوں میں رنگ بھرے جارہے ہیں۔ بظاہر ایک خاکے میں یہ رنگ سبز اور نیلے نظر آ رہے ہیں تو دوسراخاکہ اپنے اندر ابس ایک ہی رنگ کی گنجائش رکھتا ہے اور وہ رنگ ہے سُرخ۔ کہتے ہیں کہ رنگوں کا انتخاب انسانی فکر کی وسعت اور تنگی کی نمائندگی کرتا ہے۔ فکر جتنی محدود ہوگی ماحول اتنا یک رنگ ہوگا اور فکر کا دائرہ جتنا وسیع ہوتا جائے گا اس میں اتنی رنگا رنگی پیدا ہوتی جائے گی۔

رنگوں کا انتخاب اور امتزاج دونوں انسان کے تہذیبی رشتوں کی وحدت کی غمازی کرتے ہیں۔ شاملِ کثرت اکائی جہاں گنجائشوں سے بھر پور ہوتی ہے وہاں رنگوں کے امتزاج کو انجوائے کیا جاتا ہے اور جہاں اس گنجائش میں کمی ہوتی ہے وہاں ہر اکائی کے اندر اپنے آپ میں مکمل ہونے کا غرور زیادہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ایسا علم پر عقیدے کو ترجیح دینے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک سے زیادہ عقائد میں ویسے بھی صحتمند ہم آہنگی کم اورمضرت رساں اختلافات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کا تجربہ ہم یہاں بر صغیر میں کر رہے ہیں۔

رنگوں کے امتزاج کو انجوائے کرنا اصل میں یورپ کا مزاج ہے اور یہ اسی کی برکت ہے جو مغربی ایشیا کو زیر اثر لے رہا ہے۔ ہم اِدھر مایوس تو نہیں ہیں لیکن ہمیں آج بھی امکانات سے زیادہ اندیشوں کا سامنا ہے۔ان اندیشوں میں سے ایک نیا اندیشہ افغا نستان کے رُخ پر ابھرا ہے جہاں بظاہر ایک پھر کردار بدل کر پرانی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ غرض پسند سیاست میں انسانوں کو سازوسامان کی طرح استعمال کرنے والی سرمایہ دار قوتیں آج بھی وقتی نفع نقصان کے رخ پر ہی اپنی حکمتیں مرتب کرتی ہیں۔ ماضی قریب میں متعلقہ خطے میں ہم نے مجاہدین اور دہشت گرد کے کرداروں کے تبادلے ہی نہیں دیکھے بلکہ فارغین کے ہاتھوں طالبان کا بے جا استحصال اور ان کی طرف سے اپنی ہی فروخت کردہ منشیات پر پابندی کے تادیبی اقدامات کا مشاہدہ بھی کیا۔

اس بار افغان رُخی کاروبار میں چین بھی بزعم خود ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کی طرح شریک نظر آتاہے، جو نئے زمانے کا بہ انداز دیگر سرمایہ دار ہے۔ آزمودہ تجربہ گاہ میں ظاہر ہے کہ امریکہ جہاں اپنے تجربے کی بنیاد پر اپنا رول طے کرے گا، وہیں روس اپنے علاقائی مفاد کو تحفظ فراہم کرنے کا اولین ترجیح دے گا، چین کیلئے میدانی تقاضے نسبتاَ نئے ضرور ہیں لیکن چیزیں براہ راست اس کے عالمی عزائم سے جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان اپنی روایتی ہند دشمنی میں اس مرتبہ امریکہ کے بجائے چین کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ایسے میں ہندستان کو امریکہ کے ہاتھوں چین کے خلاف بالواسطہ استعمال ہونے سے بچنے کیلئے طالبان کے ساتھ پاکستان کی دوہری ڈیلنگ کو ناکام بناناہوگا جو زبردست سیاسی حکمت کا متقاضی ہے۔ بہ الفاظ دیگر سرحدوں پر چین کی طرف سے فوجی الجھاؤ اور پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے گھاؤ، دونوں کی دھار کند کرنے میں ہندستان کو تکنیکی طور پر انتہائی حکمت سے کام لینا ہے۔

یہ امر اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکہ دنیا میں کسی سے بھی اشتراک عمل اپنے محدود مفاد کیلئے کرتا ہے۔پاکستان کو امریکی کی اِس خارجہ پالیسی کا خاطر خواہ تجربہ ہے۔امریکہ کی یہی غیر انسانی سوچ اسے یورپ کی سوچ سے الگ کرتی ہے۔ یورپی ممالک خطرناک چالیں چلنے پر مربوط اقدامات کر ترجیح دیتے ہیں۔ اِس کا مظاہرہ انہوں نے کورونا کے حالیہ محاذ پر بھی کیا ہے اور وہ امریکہ سے زیادہ کامیاب رہے۔

افغانستان میں جس تیزی سے حالات بدل رہے ہیں وہ بظاہر جنوب ایشیا کے بر صغیر رُخی حصے کیلئے مستقبل قریب کی ایک بڑی علاقائی مصیبت کا پیش خیمہ بنتا نظر آ رہاہے۔کچھ اقوام جو اپنے ”آج“ سے ہمیشہ ماضی اور مستقبل کے حوالے سے رجوع کرتی ہیں اُنہیں اپنے خسارے کی فکر کم ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے ساتھ درپیش ہر واقعے کو طے شدہ مان کر چلتی ہیں۔بد قسمتی سے افغان سوچ ابھی تک اس حصار سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔دسمبر 1979 میں سوویت قبضے کے خلاف افغان سرداروں اور قبائلیوں نے جذبہ حریت سے شعوری کام لینے کے بجائے لا شعور میں امریکی آلہ کار بننے سے قطعی گریز نہیں کیااور اس راستے میں وہ اتنا آگے نکلتے چلے گئے کہ ابتک گھر نہیں لوٹ سکے ہیں۔ اپنے مقصد میں کامیاب امریکہ نے جب انہیں استعمال کرنا بند کر دیا تو بیروزگاری نے انہیں القاعدہ کے ہتھے چڑھا دیا تھا۔ اس طرح راتوں رات مجاہدین دہشت گرد بن گئے۔

تازہ منظر نامے میں روس اپنے ماضی کے خسارے کو روایتی طریقے سے پورا کرنا نہیں چاہے گا۔وہ امریکہ اور چین دونوں سے ایک فاصلہ بنا کر اپنے مفادات کی حفاظت کرنا سیکھ چکاہے۔ ماضی میں جس طرح امریکہ نے چین کو سابق سوویت یونین کے خلاف اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا تھا۔ روس کسی امریکہ دشمنی میں چین سے اُس طرح اندھا استفادہ کرنا نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس تفہیم میں چین سے بھی آگے نکل چکا ہے کہ بڑی طاقتوں کیلئے عالمی سیاست کی نوعیت اب فوجی نہیں رہ گئی۔

ادھر طالبان کے بڑھتے عزائم، حالیہ دنوں میں ڈگمگاتی افغان حکومت کو سنبھالا دینے کی امریکہ کی آتشیں فوجی کارروائی،پاکستان کی ہمسائے کے گھر کی آگ سے مفروضہ دشمن کے خلاف کھیلنے والی خارجہ پالیسی اورعلاقائی اضطراب کی ایک سے زیادہ رُخ پر بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حالات دن بدن بلکہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔افغان حکومت نے طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو ختم کرنے اور حملوں کو روکنے لئے ایک طرف جہاں زبردست کارروائی کرتے ہوئے دو روز قبل باقاعدہ مقابلوں میں 262 طالبان کو ہلاک کر دیا ہے وہیں ملک کے 31 صوبوں میں کرفیو نافذ کردیا گیاہے جس کا مقصد طالبان کے حملوں اور ان کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔ہرچند افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تمام صوبوں میں طالبان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور افغان فورسز ہر طرح سے مسلح ہیں لیکن پاکستان اس منظرنامے کو اسی طرح پروان نہیں چڑھنے دے سکتا ہے۔وہ افغان خانہ جنگی سے اپنی خارجہ پالیسی کے حق میں نفع کشید کرنے کی ایسی کوئی کوشش سے باز نہیں آئے گا جو ہندستان کیلئے موجب تشویش نہ ہو۔ ایسے میں میانمار میں چین کے بڑھتے عزائم سے ہندستان کے رُخ پر پاکستان بھی استفادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔

ان سب خرابیوں کے طواف کا محور بن کر رہ جانے والے افغانستان کی قسمت بھی عجیب ہے۔ تمام تر بلند بانگ دعووں کے برعکس تاریخ کا بے لاگ مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ ماضی بعید میں یہ خانماں برباد ملک جہاں اشوک اور اکبر کے زیر نگیں رہا وہیں ابھی گزرے ہوئے کل میں اسے سابق سوویت یونین اور امریکہ کے تسلط میں دن، مہینے سال اور دہائیوں کا سفر طے کرنا پڑا تھا۔حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان واقعات سے افغان زندگی میں کوئی ایسا انقلاب برپا نہیں ہوتا جس سے کوئی نئی تاریخ مرتب ہو۔ سوویت مداخلت سے عین پہلے کے افغانستان میں بھی ارتقا پذیر زندگی چند شہروں تک ہی محدود تھی۔

اصل میں افغانستان کا صرف گیارہ فیصد علاقہ شہری ہے اور ۸۹ فیصد افغانستان آج بھی دیہات میں ہی بستاہے۔ افغان دیہات ہندستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے گاووں کی طرح نہیں۔ افغان دیہی علاقے خالص قبائلی زندگی کی ترجمانی کرتے ہیں، جہاں آج بھی لوگ قرون وسطیٰ جیسی سوچ رکھتے ہیں۔نئی الفی کی دو دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اکیسویں صدی کے اکیس سال بھی افغانستان میں بلوغت کے سفر کا دائرہ جسم سے دماغ تک وسیع کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکے۔فخر اور تعصب کسی بھی قوم کو اندر ہی اندر نگل جاتی ہے۔ افغان طالبان ہوں یا دیگر افغان سب اسی کے اسیر چلے آرہے ہیں۔ انہیں غیر افغان قوتوں نے ہمیشہ آلے اور ساز و سامان کی طرح استعمال کیا ہے۔تاریخ میں ہم جسے اولین انگریز۔افغان جنگ کے عنوان سے پڑھتے آئے ہیں اُس جنگ میں بھی بے شمار افغان سردار اور قبائلی انگریزوں کے ہمراہ شریک جنگ تھے۔

حالات کے تازہ موڑ پربھی جہاں امریکہ اپنا گزر بسر دونوں ختم کر رہا ہے، طالبان کو جن فکرات نے گھیر رکھا ہے اُن میں ایک یہ بھی ہے کہ عورتوں کو کس طرح دنیا کی آگاہی سے دور رکھا جائے۔طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد افغان خواتین نے سکھ کا سانس لیا تھا اور وہ تیزی سے زندگی میں واپس آنے میں کامیاب ہونے لگی تھیں۔پچھلی دو دہائیوں سے خاص طور پر افغان خواتین کے لیے ملک میں بہت سی ایسی تبدیلیاں آئیں جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لڑکیاں اسکول جانے لگی تھیں، خواتین سیاسی میدان اور کاروبار میں آگے آنے لگیں، لیکن طالبان تحریک کی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ دہائیوں کے یہ فوائد مہینوں میں ضائع ہو سکتے ہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

SIR Fake Details FIR

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

اکتوبر 9, 2026
SIR Fake Details FIR

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

اکتوبر 8, 2026
ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

اکتوبر 8, 2026

حالیہ خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

اکتوبر 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN