نئی دہلی : (ایجنسی)
بابری مسجد کے انہدام پر قومی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’رام کے نام‘ ہفتہ کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں دکھائی گئی۔ رجسٹرار کی وارننگ کے باوجود طلبہ نے فلم کی نمائش کی۔ آنند پٹوردھن کی اس فلم کی نمائش ہفتے کی رات ہوئی تھی۔ رات گئے تک کسی واقعہ کی خبر نہیں ملی تھی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ اس فلم کی نمائش سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوسکتی ہے۔ کیمپس میں دکھایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ جے این یو کے رجسٹرار روی کیش کی طرف سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ’ جانکاری میں آیا ہے کہ جے این یو ایس یو کی طرف سے ’ رام کے نام‘ دستاویزی فلم کی اسکریننگ کے لیے پوسٹر جاری کیا گیا ہے ۔ اس تقریب کے لیے کوئی پیشگی اجازت نہیں لی گئی ہے۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے یونیورسٹی کا امن وامان خراب ہو سکتا ہے۔
انتظامیہ نے مزید کہا، ‘طلباء اور دیگر لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس پروگرام کو فوری طور پر بند کر دیں۔ ایسا کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں تادیبی کارروائی ہوگی۔ لگائے گئے پوسٹرز سرکاری نہیں ہیں اور ان سے کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔ جے این یو ایس یو کی صدر عائشہ گھوش نے کہا کہ سال 2019 میں اسی فلم کو بغیر کسی پابندی کے دکھایا گیا تھا۔










