نئی دہلی :
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے اتوار کو کہاہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورجسمانی تشددکا سب سے زیادہ خطرہ تھانوں میں ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا نے کہاکہ تھانوں میں گرفتار یا حراست میں لئے گئے شخص کو موثر قانونی امداد نہیں مل پا رہی ہے جبکہ اس کی اشد ضرورت ہے ۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے ملک بھر کے تھانوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حراست میں تشدد اور دیگر پولیس مظالم ایسے مسائل ہیں جو ابھی بھی ہمارے سماج میں موجود ہیں۔ آئینی اعلانات اور ضمانت کے باوجود گرفتار یا حراست میں لئے گئے شخص کو موثر قانونی امداد نہیں مل پا رہی ہے ،جو ان کے لیے بے حد نقصاندہ ثابت ہو تا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ رپورٹ کے مطابق خصوصی اختیارات یافتہ لوگوں کے ساتھ بھی تھرڈ ڈگری کااستعمال کیا جا تا ہے ۔
چیف جسٹس این وی رمن اتوار کو نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (نالسا) کے وژن اور مشن اسٹیٹمنٹ اور موبائل ایپ کی لانچنگ کے موقع پر منعقد ایک پروگرام میں خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو قانونی امداد کے آئینی حق اور پولیس کے مظالم کو روکنے کے لیے مفت قانونی امداد کی دستیابی کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے وسیع تشہیر ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ نالسا کو باہمی تعاون کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائے کہ ناقص رابطے دیہی اور دور دراز علاقوں میں انصاف تک رسائی میں رکاوٹ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ڈاک کی خدمات کا استعمال قانونی امداد کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے بھی ایک اچھا آپشن ہے۔ پوسٹ آفس اور پوسٹ مین شہر اور گاؤں کے درمیان ’ڈیجیٹل ڈیوائڈر‘کو کم کرنے میں مدد گار ہوگا۔ اس کے ذریعہ دور دراز کے لوگوں کو قانونی مدد مل سکے گی۔
وگیان بھون میں منعقد پروگرام میں سپریم کورٹ کے جسٹس اور نالسا کے ورکنگ صدر جسٹس یو یو للت بھی موجود تھے۔ جسٹس للت نے بار کونسل آف انڈیا اور لاء کالجوں کو قانونی امداد کے بارے میں لوگوں کو بیدار کیا جا ناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تمام لاء کالجز کو اپنے آس پاس کے علاقوں میں لوگوں کو قانون کی خدمات سے آگاہ کریں۔











