روزنامہ خبریں نے سوال کیا کہ کانفرنس کے 16داعی تھے مگر جو پریس ریلیز جاری ہوئی اس میں کانفرس کے داعی کے طور پر صرف آپ کانام ہے اور یہ بھی کہ ملی کونسل پس پشت تھی،کیایہ کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں ہے ؟ ڈاکٹر صاحب نے اعتراف کیا یہ بات درست ہے کہ پریس ریلیز سے غلط تاثر چلا گیا ،اس کو جتنا غلط کہا جائے اتنا غلط ہے ۔یہ سرے سے ہی غلط او بے وقوفی بھرا ہے،اس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ،
نئی دہلی :
اتحاد ملت کے جس سفر کا آغاز ہوا ہے وہ جاری رہے گا،اب ریاستوں میں اس طرح کی میٹنگیں کی جائیں گی،جو طے کردہ نکات اور مجوزہ روڈ میپ پر کام کریں گی،شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اہم مسلم تنظیمیں خود داعی تھیں،ان میں سے بیشتر شریک ہوئیں، بعض مقتدر شخصیات کسی عذر کے سبب نہیں آسکیں وہ بھی اس کے مقاصد و اہداف سے متفق ہیں،آل انڈیا ملی کونسل کے سکریٹری جنرل اور کانفرنس کے روح رواں ڈاکٹر منظور عالم نے ’روزنامہ خبریں‘ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ تنظیموں کے انضمام نہیں بلکہ اشتراک کی بات ہے ۔اجتماعی قیادت کو آگے بڑھانا ہے،اس تصور کو مضبوط کرنا ہے۔اس سوال پر کہ مسلم نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی،مایوسی اور غصہ دور کرنے پر غور و مداوا کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ تھا اس پر کیا ہوا، موصوف نے کہا کہ جب قرارداد سامنے آئیں گی تو اس سوال کا جواب مل جاے گا،انہوںنے دعویٰ کیا کہ یہ دستاویز بہت اہم ہے تمام شرکاء نے اسے فراخ دلی سے قبول کیا۔
روزنامہ خبریں نے سوال کیا کہ کانفرنس کے 16داعی تھے مگر جو پریس ریلیز جاری ہوئی اس میں کانفرس کے داعی کے طور پر صرف آپ کانام ہے اور یہ بھی کہ ملی کونسل پس پشت تھی،کیایہ کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں ہے ؟ ڈاکٹر صاحب نے اعتراف کیا یہ بات درست ہے کہ پریس ریلیز سے غلط تاثر چلا گیا ،اس کو جتنا غلط کہا جائے اتنا غلط ہے ۔یہ سرے سے ہی غلط او بے وقوفی بھرا ہے،اس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ،ہم اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔جہاں تک کریڈٹ لینے کی بات ہے میں اس سے کوسوں دور رہا ہوں،مجھے اس کا کبھی لالچ نہیں رہا،خطائیں اللہ معاف کرے گا،نیتوں کا حال وہی جانتا ہے،میں نے ہمیشہ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کو ترجیح دی ہے ۔
آپ دیکھیں کہ اتحاد ملت کے پروگرام کا کنوینر مولانا خالد سیف اللہ کو بنایا ہے،مگر وہ تو آپ کے آدمی کہے جاتے ہیں اس پر موصوف نےپر زور تردید کی اور کہا کہ میں سب کو ساتھ لے کر چلتا ہوں ،ملت کا ہر فرد میرا ہےآخر کانفرنس کا ماحصل کیا رہا اس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چار نکات رہے ،نمبر ایک حوصلہ افزائی یعنی جو لوگ جہاں بھی کام کررہے ہیں ان کی ستائش و حوصلہ افزائی۔ نمبر دوکو آرڈنیشن یعنی سرگرم افراد سے رابطہ و تعاون وہ ملت کا اثاثہ ہیں۔ نمبر تین کوآپریشن یعنی جو لوگ سرگرم ہیں ان کی مدد، تعاون، ان کا ساتھ دیں۔ نمبر چار کو لبریشن یعنی ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں،باہمی تعاون و اشتراک کو فروغ دیں،اس سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور مسائل حل ہوتے ہیں ۔ڈاکٹر منظور عالم نے کہا یہ بڑا کام ہے ،تنقید کا خیر مقدم ہے تنقیص سے گریز کی ضرورت ہے۔











