غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ تل ابیب نے اس پر قبضے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے اتوار کے روز ہونے والے ایک اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی، یہ منصوبہ منگل کو وزیر دفاع یسرائیل کاتز کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
زامیر نے غزہ میں جنوبی کمان کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن "عربات جدعون” کا اگلا مرحلہ جلد شروع ہو گا، جو ایک متوازن اور سوچی سمجھی فوجی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج زمین، سمندر اور فضا … تینوں محاذوں پر اپنی پوری طاقت استعمال کرتے ہوئے حماس کو سخت حملوں کا نشانہ بنائے گی۔
منصوبے کی تفصیلات
منصوبے کے مطابق قبضے کی کارروائی ان چند حصوں پر مرکوز ہو گی جو ابھی مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے اور جو تقریباً 25 فی صد علاقے پر مشتمل ہیں۔
پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج زمینی افواج کو غزہ اور شمالی ضلعوں میں داخل کرے گی تاکہ انہیں باقی علاقے سے دوبارہ کاٹ دیا جائے۔ اس کے بعد مختلف سمتوں سے زمینی یلغار کی جائے گی۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ شہر کے قلب میں زمینی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، جو چار سے پانچ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ خیال رہے کہ غزہ شہر اور اس کے مغربی حصے میں اس وقت تقریباً 10 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اس آپریشن میں کم از کم چار فوجی ڈویژنیں شامل ہوں گی، جن میں مستقل بریگیڈز اور متحرک کیے گئے اضافی فوجی دونوں شامل ہوں گے۔ ان بریگیڈز میں جولانی بریگیڈ، غفعاتی بریگیڈ (خصوصی پیادہ فوج)، پیراشوٹ بریگیڈ (شہری علاقوں میں لڑائی کی ماہر)، بکتر بند یونٹس (مریکیوا ٹینکوں سے لیس) اور انجینئرنگ یونٹس شامل ہیں، جو سرنگوں اور قلعہ بندیوں کو توڑنے میں مہارت رکھتی ہیں۔اسرائیل اس منصوبے کے لیے 80 ہزار سے 1 ایک لاکھ اضافی فوجیوں کو بھی طلب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔







