نئی دہلی :(ایجنسی)
نفرت انگیز موادکو لے کرمسلسل نشانہ پر رہے فیس انڈیا کو دہلی کے ایک پینل نے آج دہلی فسادات کے معاملےمیں طلب کیا۔ اس پینل نے دہلی فساد سے پہلے اور فساد کے دوران نفرت پھیلانے والی پوسٹوں کو لے کر تلخ سوال کئے۔ فیس بک انڈیا کی طرف سے پیش افسران نے کچھ سوالات کےجواب دئے تو کچھ سوالات کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ان کو ایسا کرنے کا حق ہے۔ حالانکہ اس پینل نے سپریم کورٹ کے حکم کاحوالہ دیتےہوئے ان معاملوں میں صفائی مانگی۔ پینل نے فیس بک انڈیا سے کہا کہ وہ پبلک پالیسی ٹیم اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مذہبی وابستگیوں کے بارے میں معلومات شیئر کرے ۔
دہلی اسمبلی کمیٹی برائے امن و ہم آہنگی نے اس معاملے میں فیس بک انڈیا سے جواب طلب کیا تھا۔ کمیٹی کے چیئرمین عام آدمی پارٹی کے رہنما راگھو چڈھا نے بھی پوچھا کہ ‘فیس بک انڈیا میں کام کرنے والے لوگوں کی ’مذہبی وابستگی کیا ہے؟‘
اس پر فیس بک انڈیا کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر شیو ناتھ ٹھکرال نے جواب دیا کہ کمپنی کے ملک میں 300 ملازمین ہیں، پالیسی ٹیم میں تقریباً 20 ملازمین ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ فیس بک مذہبی اقلیتی ملازمین کی تعداد کے بارے میں ریکارڈ نہیں رکھتا کیونکہ ملکی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔
چڈھا نے اس کے بعد فیس بک سے اگلی سماعت پر مذہب اور شیئر ہولڈنگ پیٹرن پر مبنی پبلک پالیسی ٹیم اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کو کہا۔
حالیہ مہینوں میں فیس بک کے بارے میں آنے والی رپورٹوں کے بعد فیس بک کو اسمبلی کمیٹی کے سامنے طلب کیا گیا ہے جس نے کمپنی کو نفرت انگیز مواد کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ یہ رپورٹس خود فیس بک کی داخلی دستاویزات سے سامنے آئی ہیں۔ ایسی بہت سی رپورٹس فیس بک کے سابق ملازمین نے جاری کی ہیں، جو کہ وسل بلورز بن چکے ہیں۔
کمپنی پر ابتدا میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ نفرت انگیز مواد کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے بعد سے اس پر تعصب کا الزام لگایا گیا ہے، خاص طور پر مسلم مخالف نفرت انگیز پوسٹس سے نمٹنے میں۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ ہندوستان میں 2019 سے ہی ایسے نفرت انگیزمواد کا سیلاب آگیا تھا۔ فیس بک پر چنندہ طریقے سے کارروائی کرنے کا الزام بھی لگتا رہا ہے ۔ حالانکہ فیس بک ان الزامات کو خارج کرتا رہا ہے ۔
بہرحال نفرت والی پوسٹوں پر دہلی پینل نے فیس بک کو دہلی میں فروری 2020 کے فساد سے جڑی جانکاری مانگی۔ اس نے کہاکہ فساد سے ایک مہینے پہلے سے لے کر فساد کے دو مہینے بعد تک کی موصول ہونے والی صارفین کی تمام شکایات اور اس پر کی گئی کارروائی کو پیش کیاجائے ۔










