اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندوؤں اور مسلمانوں کے مسائل کم و بیش یکساں ہیں!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
ہندوؤں اور مسلمانوں کے مسائل کم و بیش یکساں ہیں!
72
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

وطن عزیز کے مراعات یافتہ ہندو اور مسلمان یعنی اپنے اپنے فرقوں کے خواص جس روز اپنی سوچ، بیانیہ اور طرز عمل بدلیں گے اُس دن انہیں سب سے پہلے اس بات کا ادراک ہو گا کہ انتہا پسندیا آتنکی آسمان سے نہیں اترتے بلکہ ایسے اعتدال پسند گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے نام پر بچوں کے اندر راست اور بالواسطہ دونوں طور پربے جا توقیر اور ہتک کا جذبہ جگایا جاتا ہے۔

اِس ادراک کا پہلا امکانی فائدہ یہ ہو گا کہ وہ لوگ بھی روز مرہ کی زندگی سے عام ہندوستانیوں کی طرح پیش آنے لگیں۔ اِس طرح ممکن ہے کہ انہیں بین فرقہ معاملات سے ہر وقت ایسی بُو آنی بند ہو جائے جو انہیں حال سے زیادہ ایک ایسے مستقبل کے رُخ پر پریشان کرتی ہے جس میں مسلمان افسانوی عظمت رفتہ کی بحالی کے خواب دیکھتے ہیں اور ہندو مفروضہ عہد ِغلامی سے نجات کی راہ بے ڈھنگے طریقے سے نکالنا چاہتے ہیں۔

عام ہندو کو آج بھی عام مسلمانوں کی آبادی سے زیادہ اس کی خستہ حالی کی پرواہ ہے ۔ وہ اُنہیں ارتقا کے سفر میں شانہ بشانہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی طرح عام مسلمان بھی ہندوتوکی تشریحات میں اُلجھنے سے زیادہ ہندوؤں کی خوشگوار ہمسائیگی انجوائے کرنا چاہتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دونوں اپنے اپنے حلقوں کے اُن خواص سے پریشان ہیں جنہوں نے سیاسی، سماجی اور تہذیبی تعبیرات کا ٹھیکہ از خود اٹھا رکھا ہے اور خیرخواہی کے نام پر عام لوگوں کا جینا حرام کئے ہوئے ہیں۔

بابا کہتے تھے کہ جس اندھیرے سے بچے ڈرتے ہیں اگر وہ اندھیرا (صرف جسمانی طور پر) بالغوں کو بھی ڈرانے لگے تو سمجھ لو معاشرہ جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ عصری ہندستان اِسی آزمائش سے گزر رہا ہے، جہاں ہندو مسلم اختلافات اور جھگڑے معمول کی بات بن گئے ہیں اور امن و اتحاد کی باتوں کو لوگوں نے خالی اوقات گزارنے کے اہم موضوعات میں بدل دیا ہے۔ گویا ہر ظرف خالی ہے اور چاروں طرف بس بے ہنگم صدائیں گونج رہی ہیں۔ ایسے میں جو نسل پروان چڑھ رہی ہے اسے سب کچھ مل رہا ہے لیکن وہ ’’ذہنی بلوغت‘‘ نہیں مل رہی ہے جو ارتقاء کے سفر کیلئے ناگزیر ہے۔

جہاں سجدے بددعاوں سے آلودہ ہوں اور پرارتھناوں کا رخ ایک ایسی نجات کی طرف ہو جس کا راستہ خاک و خون سے گزرتا ہے وہاں غیر صحت مند سوچ رکھنے والا ہندو مسلمانوں کو اپنے مستقبل کیلئے خطرہ سمجھتا ہے اور حال سے پریشان مسلمان ماضی میں پناہ ڈھونڈتا پھرتا ہے۔نتیجتاً دونوں خیالی دنیا میں جینے لگتے ہیں ۔خدا لگتی کہی جائے تو یہ ساری کارستانیاں عملاً دونوں طرف کے اسباق رٹنے والوں کی ہیںجنہیں تاریخ دہرانے سے فرصت نہیں کہ وہ اُس سے سبق بھی حاصل کر سکیں۔ دونوں طرف کے گنتی کے چند پڑھے لکھے لوگ ان منفیات سے بچ کر جی تو لیتے ہیں مگر وہ کوئی ایسی تبدیلی لانے کے متحمل نہیں جس کی روشن مثال یورپ پیش کرتا ہے۔

ایسے میں جو دن خیریت سے گزر جاتے ہیں وہ عام لوگوں کو وقتی خوشی ضرور بخشتے ہیں لیکن اِس کا اخباروں میں کہیں کوئی ذکر نہیں آتا۔ ”آج سب خیریت رہی” یہ کسی اخبار کی سرخی نہیں بنتی، البتہ سرورق کی یہ کمی بعض کالم نگار ادارتی صفحات پر اپنی تلخ و ترش تحریروں سے پورا کر نے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔کم علم معاشرے میں ویسے بھی اچھی چیز سے زیادہ بُری چیز دیکھنے اور سُننے والوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔خوبصورت چہرے کے وسیع حلقے میں ایک چھوٹا سے زخم بھی دیکھنے والی کی نوے فیصد توجہ اپنی طرف کر لیتا ہے۔ ایسے میںکوئی ناظراگر دین و دنیا دونوںکا تاجر ہے تو وہ اس موقعے کو اپنے بے ہنگم نسخوں سے کیش کرنے میں لگ جاتا ہے۔ تختہ ء مشق بننے والوں پہ کیا گزرتی ہے اس سے ہم سبھی اپنے اپنے طور پر واقف ہیں۔

عام لوگوں پر عذاب بنے خواص کی ذہنیت مرحلہ وار اس قدر تاجرانہ ہو گئی ہے کہ وہ ملک اور عوام کے اجتماعی نقصان کے تعلق سے بظاہربے حس ہو کر رہ گئے ہیں۔ دوسری طرف اُن کی لن ترانیاں اور کہانیاں سُن سُن کر عملاً گمراہ ہوجانے والے کبھی اپنے مقلدوں کے ساتھ جنتر منتر پر جمع ہوکرسب کچھ اُگل دیتے ہیں توکبھی نفاق سے منافع کشید کرنے والے ایک سے زیادہ اتحاد کانفرنسیں منعقد کرکے اپنی دھاک اور دھار آزمانے لگتے ہیں۔ لگتا ہے سارا کاروبار امداد باہمی کا ہے۔ حکومتیں کل بھی مراعات یافتگان کی اِس قسم کی عوامی مصروفیات سے اپنے محدود مفادات کے حق میں فیص اٹھاتی رہیں، موجودہ حکومت بھی بہ انداز دیگر اسی کو بھنا رہی ہے۔

وطن عزیز میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مسائل (روٹی، کپڑا اور مکان) کم و بیش یکساں ہیں۔ لیکن دونوں فرقوں کے خواص کو اس ادراک سے زیادہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ اور عدم نفاذ سے دلچسپی ہے اور اسی دلچسپی کو قائم رکھنے کیلئے وہ حکومتوں کو بلیک میل یا ای میل کرتے رہتے ہیں۔ اقلیتی فرقوں میں جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے توسچر کمیٹی کی رپورٹ سے لے کرتعلیمی اداروں میں اقلیتی اور غیر اقلیتی نمائندگی کی ایک تازہ رپورٹ تک عملاً کہیں کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی جو حال کیلئے اطمینان بخش اور مستقبل کیلئے اپنے اندر اندیشوں کے بجائے امکانات رکھتی ہو۔ ایسا کیوں ہے یہ آپ لاکھ پوچھیں، وسوسوں کے تاجر اس کا ہرگزدوٹوک جواب نہیں دیں گے۔

سرگرم صحافی سہیل انجم نے اقلیتی اسکولوں سے متعلق ایک سرکاری رپورٹ کی جو نقل پیش کی اُس کے مطابق اقلیتی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے انرولمنٹ کا جائزہ لینے پر پتہ چلا ہے کہ غیر اقلیتی فرقوں کے ساڑھے باسٹھ فیصد طلبہ نے ان اقلیتی اسکولوں میں داخلہ لیا ہے۔ سب سے زیادہ غیر اقلیتی طلبہ جین اسکولوں میں ہیں یعنی 81.41 فیصد۔ جبکہ مسلم اقلیتی اسکولوں میں غیر اقلیتی طلبہ کی شرح سب سے کم یعنی 20.29 فیصد ہے۔ عیسائی اسکولوں میں 74.01 فیصد غیر عیسائی طلبہ ہیںاور سکھ اسکولوں میں 75.50 فیصد غیر سکھ طلبہ ہیں۔جائزہ لینے والی کونسل نے یہ دیکھنے کے بعد کہ اقلیتی اسکولوں میں اکثریتی طلبہ کی اکثریت ہے، ان اسکولوں میں اقلیتی طلبہ کے ریزرویشن کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مدارس کے نصاب میں یکسانیت نہیں ہے۔ وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ دنیا کے دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم علم ہیں۔ بہت سے طلبہ میں احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ دنیا کے دیگر بچوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔ اس کے علاوہ مدرسوں میں اساتذہ کی ٹریننگ کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔

مجموعی منظرنامے کایہ ایک پہلو ہی سوچنے اور سمجھنے والوں کو یہ تحریک دینے کیلئے کافی ہے کہ وہ اپنے معاشرے کے مراعات یافتگان کا دامن حشر سے پہلے یہیں پکڑلیں اور کسی تشدد کے بغیر اُنہیں منصب بدر کردیں تاکہ مقصد کُن کے رُخ پرہندستانی ملت اسلامیہ بھی اُسی طرح آگے بڑھ سکے جس طرح دیگر ترقی یافتہ اقوام نے اپنا سفر طے کیا ہے۔بحیثیت انسان دوسروں کی طرح ہم پر بھی فرض ہے کہ ہم بنیادی انسانی ضرورتوں اور سہولتوں کی رسائی عام کرنے کو دیگر تمام ایسی سرگرمیوں پر ترجیح دیں جو اہم ہوتے ہوئے بھی ثانوی ہیں۔جس دن ہم اس ادراک میں عملاً کامیاب ہوگئے اُس دن ہم اپنی اُس دعا کا حق بھی ادا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس میں ہم آخرت سے پہلے دنیا میں بھلائی چاہتے ہیں۔ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً۔۔۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN