نئی دہلی:
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں متنازعہ رافیل معاہدے کی فوری تحقیقات کروائے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ اب جب کہ فرانس حکومت نے بھارت کے ساتھ ہو ئے انتہائی اہم اور متنازعہ رافیل معاہدے پر عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جس میں 36 رافیل جنگی جہازوں کو جنہیں 7.8 بلین یورو میں خریدا گیا تھا اور جس پر لگاتار یہ الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ اس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے نیز ملک کی اپوزیشن پارٹیاں بھی اس کی اعلی سطحی جانچ کا برابر مطالبہ کرتی رہی ہیں لہذا فرانس حکومت کے اس اقدام کے بعد اب اس مطالبہ کی معنویت اور شدید ہوگئی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں اس کی فی الفور جانچ کروائے۔
انہوں نے آگے کہا کہ فرانس کی ویب سائٹ میڈیا پارٹ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ سب سے پہلے دسالٹ ایویشن نے 26 مارچ 2015 کو انل امبانی کے ریلائنس گروپ کے ساتھ میمورنڈم آف انڈراسٹنڈنگ پر دستخط کئے تھے، جب کہ اس سے عین دو ہفتہ قبل پیرس میں وزیر اعظم مودی کا یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ بھارت فرانس سے 36 رافیل جیٹ خرید رہا ہے۔ اگر یہ بات سچ ثابت ہوجائے تو ملک کی دفاعی معاملات کے ساتھ کھلواڑ کی ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کمپٹرالر اور آڈیٹر جنرل (CAG) نے دفاعی معاملات میں حکومتی سودوں پر جو آڈٹ رپورٹ داخل کی اس میں رافیل طیاروں پر ہوئی سودے بازی کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ اس سے مودی دور حکومت میں کارپوریٹس کی حکومتی معاملات میں دخل اندازی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے اس معاملہ کے تمام اہم امور کو اخفا میں رکھا اور عدالت عظمی تک کو گمراہ کیا تاکہ عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ (2018)کروایا جاسکے۔
ڈاکٹر الیاس نے اپنے بیان میں آگے کہا کہ اگر فرانس حکومت کی تحقیقات میں یہ الزام سچ ثابت ہوجائے تو پھر کانگریس پارٹی کا دیا ہوا یہ نعرہ بھی حقیقت بن جائے گا کہ‘‘ چوکیدار ہی چور ہے’’۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الزام ثابت ہونے کی صورت میں وزیر اعظم مودی کو فی الفور اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔









