پٹنہ :
بہار میں نتیش حکومت کا ایک فرمان سرکاری اسکولوں کے پرنسپل کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ حکومت کا حکم ہے کہ مڈ ڈے میل کے لیے اناج جس بورے میں آتاہے ،اسے پرنسپل بیچ کر اس کا پیسہ سرکار کو دیں۔ اس کے لیے باقاعدہ سرکار نے ریٹ بھی فکس کررکھا ہے ۔
اس فرمان کا حال ہے کہ پرنسپل اسکول میں پڑھانے کےبجائے سڑک پر بورا بیچ رہا ہے۔ یہ حال ہے کٹیہار ضلع کے کڑوا بلاک کے ایک سرکاری اسکول کے پرنسپل محمد تمیزالدین کا ہے۔ ہر صبح محمد تمیز الدین اپنے سر پر خالی بوریاں کا ڈھیر لے کرمقامی بازار جاتے ہیں اور انہیں وہاں بیچنے کی کوشش کرتےہیں ۔
تیز- تیز آواز میں تمیزالدین چلا کر لوگوں سے بورا خریدنے کی اپیل کرتے رہتے ہیں، لیکن لوگ ان کا بورا نہیں خریدتے ہیں ۔ تمیزالدین کا کہنا ہے کہ بھائی بورا لے لو، نہیں تو سیلری نہیں ملے گی۔ لوگ یہ کہہ کر بورا نہیں خریدتے ہیں کیونکہ سارے بورے خراب ہوتے ہیں ۔ کٹے پھٹے بورے وہ بھی 10 روپے کے.. جاؤ یہاں سے کوئی نہیں لے گا.. کچھ ایسا ہی ہر روز تمیزالدین کو سننا پڑتا ہے ۔ بازار میں دیکھنے والوں کو بھی یہ عجیب لگتاہے کہ ایک اسکول کا پرنسپل جوٹ کے بورے بیچ رہا ہے ۔
تمیز الدین گلے میں تختی بھی لٹکائے رکھتے ہیں جس پر لکھا ہوتاہے کہ ’’ میں بہار کے ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر ہوں، سرکار کے حکم پر خالی بورے بیچ رہاہوں۔‘‘
تمیزالدین کے احتجاج کا یہ طریقہ اور ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جم کر وائرل ہو رہی ہے۔ بہار کی اہم پوزیشن پارٹی آر جے ڈی نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا :’’ بہار کے ایمپلائیڈ ٹیچر مڈ ڈے میل کے اناج کا بورا بیچتے ہوئے ! دراصل ٹیچروںکو 2014-2016مالی سال کا مڈ ڈے میل اناج کا فی بورا 10 روپے میں بیچنے کا محکمہ جاتی حکم ملاہے ! رہی بات چوہوں کی تو ’’گڈگورنس ‘‘ متاثرہ بہار واسی اربوں کا باندھ ، شراب نگل جانے والے چوہوں کی مہیما خوب جانتے ہیں۔‘‘
بتادیں کہ نتیش سرکار نے مڈ ڈے میل اسکیم کے تمام ضلع پروگرام افسر ( ڈی پی اوز) کو یہ یقینی کرنے کے لیے کہاہے کہ ان کے حلقے کے اسکول جوٹ کے بورے بیچیں جس میں انہیں اناج ( چاول اور دال) کی سپلائی کی گئی تھی ۔
پرنسپل سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ جوٹ کے بورے بیچنے اور پیسے جمع کرنے میں ناکام رہے تو انہیں جرمانہ دیاجائے گا ۔ اس لئے پورے بہار میں کئی پرنسپل اور ٹیچر اس حکم کے خلاف بوریوں کی پھیری لگانے سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔











