نئی دہلی :
مودی سرکار کے دوسری ٹرم کے دو سال مکمل کرنے کے موقع پر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا ’ دیش کی یہی پکار ، گدی چھوڑو مودی سرکار‘ مہم چھیڑنے کا اعلان کیا ہے، جو 25 جون تک جاری رہے گی۔ اس دوران ملک گیر سطح پر متعدد پروگراموں کے ذریعہ مودی سرکار کی ناکامیوں کو سامنے لایا جائے گا۔ اس میں سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام کو بیدار کرے گی اور لاک ڈاؤن کے ضوابط کی پابندی کے ساتھ مہم کو موثر بنایا جائے گا۔اس بات کااعلان آج یہاں پارٹی کے قومی صدر اور مسلم رہنما ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے خاص طور سے کورونا کا مقابلہ کرنے میں مودی سرکار کی بری طرح ناکامی ،بین الاقوامی سطح پر بھارت کی بدنامی، اسپتالوں ، وارڈوں، بیڈ، آکسیجن کے ناقص انتظام ،عوام کی بے بسی ، لاکھوں افراد کی موت اور طبی سسٹم کے فیل ہونے کے بارے میں تفصیل سے بتایا ۔ سائنسی مزاج کے بجائے گئو موتر، گوبر لیپ اور دیگر طریقوں کی ان کے وزیروں کے ذریعہ حوصلہ افزائی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی ایسے لوگوں کا ڈیٹا جمع کرے گی جو بدانتظامی اور عدم سہولت کے سبب مارے گئےاور سپریم کورٹ میں اپلی کیشن دائرے کرے گی جس میں مودی سرکار پر قتل کا مقدمہ چلانے کی درخواست کی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے ،اسے اقدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم دیگر پارٹیوں کا بھی تعاون لیں گے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر الیاس نے کئی نکات پر مشتمل مطالباتی چارٹر بھی سامنے رکھا جس میں مندردجہ ذیل مطالبہ کیا گیا ہے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا مطالبہ کر تی ہے کہ
٭ کووڈ- 19 وبا کی اس دوسری لہر کو روکنے اور احتیاتی تدابیر اختیار کر نے کے تعلق سے ہو ئی بد انتظامی کے لئے وزیر اعظم راست ذمہ دار ہیں لہٰذا وہ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہو ئے فوری استعفیٰ دیں۔
٭ پورے ملک کے لئے ایک ہی ویکسین پالیسی اختیار کی جائے۔ ویکسین کی تقسیم منصفانہ، مفت اور فوری ہو نیز قلت پر فوری قابو پایا جائے۔
٭ جو لوگ انتظامیہ یا حکومت کی غفلت اور بد انتظامی کی وجہ سے ہلاک ہو ئے ہیں انھیں فی الفور اور بھرپور معاوضہ دیا جائے۔
٭ کووڈ- 19 کے تدارک اور روک تھام کے لئے ریا ستی حکو متوں اور اپوزیشن پارٹیوں کو ساتھ لے کر پو رے ملک کے لئے ایک نیشنل پلان بنایا جائے۔
٭ کووڈ- 19 کے تعلق سے فوری اقدامات کی غرض سے ایک ٹاکس فورس بنائی جائے جو آکسیجن، دوائوں اور ویکسین کی بروقت مرکز سے ریاستوں تک سپلائی کو یقینی بنائے۔
٭ پبلک اور پرائمری ہیلتھ کیئر کی سہولیات کو بہتر اور موثر بنایا جائے نیز پبلک ہیلتھ کیئر پر ملک کیGDP کا 10 فیصد خرچ کیا جائے۔
٭ صحت و علاج معالجہ کے حق کو زندگی کے حق کے تحت بنیادی حق قرار دیا جائے۔
٭ مستقبل میں کسی بھی وبا کے دوران پیدا ہو نے والی ایمرجنسی کے تدارک اور پیش بندی کے لئے ماہرین کو ساتھ لے کر مؤثر منصوبہ بندی کی جائے۔
٭ ایسی ریسرچ کو تقویت دی جائے جو سائنسی مزاج کے مطابق ایسی تدابیر اختیار کر سکے جس سے کہ لائف سیونگ ادویات، ویکسن اور آکسیجن کا فوری انتظام ہو سکے۔
٭ ایسے مسائل پر فی الفور توجہ دی جائے جو ان مواقع پر لاک ڈائون کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں جیسے روزگار کا ختم ہو جانا، مہاجر مزدوروں کے مسائل، غریب اور ضرورت مندوں کو رقم مہیا کرانا تاکہ وہ ضروریات کی چیزیں خرید سکیں۔
٭ ایسے سیاست دانوں اور افراد کے خلاف فوری کاروائی کی جائے جو ان غیر معمولی حا لات اور ایمرجنسی کی حالت میں بھی اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے سے باز نہیں آتے۔
٭ ایسے افراد کے خلاف انکوائری کر وا کر فوری کاروائی کی جائے جو ان غیر معمولی حالات میں بھی بلیک مارکیٹنگ، کرپشن اور ناجائز منافع خوری کے ذریعہ لو گوں کو لوٹتے ہیں۔








