ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے انتباہ کے بعد ایران کو دھمکیوں کا امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ علی خامنہ ای نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ امریکیوں کو جان لینا چاہیے کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں دھمکیاں کام نہیں آئیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اور دوسروں کو جان لینا چاہیے کہ اگر انہوں نے کوئی ایسا اقدام کیا جس سے ایرانی قوم کو نقصان پہنچے تو انہیں سخت دھچکا لگے گا۔ علی خامنہ ای نے یہ بھی واضح کیا کہ یورپی اور امریکی سیاست دان حوثیوں کو ایران کے ایجنٹ قرار دینے میں غلط ہیں۔
یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر کو پیغام بھیجا تھا اور ایک امریکی اہلکار اور دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے علی خامنہ ای کے پیغام میں نئے ایٹمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ دو ماہ کی مدت خط کی ترسیل کے وقت سے شروع ہوتی ہے یا مذاکرات شروع ہونے کے وقت سے۔ تاہم اگر ایران ٹرمپ کے اقدام کو مسترد کرتا ہے اور مذاکرات نہیں کرتا ہے تو ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی یا اسرائیلی فوجی کارروائی کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جائیں گے۔