نئی دہلی ؍ متھرا(ایجنسی)
تاریخی بابری مسجد کی شہادت کی کل ۲۹؍ویں برسی ہے۔ اس موقع پر کچھ مسلم اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیاگیا ہے ، ہندو توا وادیوں کا اس موقع پر کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے جو ہرسال اس دن شوریہ دیوس کے طور پر مناتے تھے ۔ایودھیا سے زیادہ اس بار متھرا کو لے کر کشیدگی پھیلی ہوئی ہے جہاں ہندو توا وادیوں نے متھرا شاہی عیدگاہ میں مورتی نصب کرنے اور گنگا جل سے شدھ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایودھیا اور متھرا سمیت ملک بھر میں کسی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کےلیے سخت ترین حفاظتی اور احتیاطی بندوبست کیے گئے ہیں۔
ایودھیامیں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہاں ہائی الرٹ ہے، اعلیٰ پولس افسران کا کہنا ہے کہ پولس کوئی جوکھم نہیں اُٹھا رہی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نپٹنے کےلیے تمام تر احتیاطی تدابیر اپنائی جارہی ہیں۔ اے ڈی جی لکھنو زون ایس این سبت نے کہاکہ ہم نے ایودھیا میں سیکوریٹی فورسیز کو تعینات کردیا ہے، اور تمام تر ا حتیاطی تدابیر اپنائی جارہی ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ کسی بھی طرف سے کسی خطرے کا خدشہ نہیں ہے اور ہم تمام پہلوئوں غوروفکر کررہے ہیں، انہوں نے کہاکہ اب تک شہر میں امن ہے اور ایس ایس پی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور آئی جی علاقے کی نگرانی کےلیے آرہے ہیں۔ متھرامیں ہندو تو ادی تنظیموں کے شرپسندانہ اعلان کے بعد انتظامیہ کی جانب سے متھرا کو چھائونی میں تبدیل کردیاگیا ہے، حالانکہ عام دنوں میں بھی یہاں سیکوریٹی کے سخت انتظامات رہتے ہیں لیکن اتوار کو سیکوریٹی سخت کرنے کی ایک بڑی وجہ ہندو تو وادیوں کا شرپسندانہ و مفسدانہ اعلان بھی ہے۔
شاہی عیدگاہ احاطے کے قرب وجوار کے چپے چپے پر نظر رکھی جارہی ہے، پورے متھرا میں دفعہ144نافذ ہے، ساتھ ہی جو بھی احاطے کی طرف آجارہے ہیں اس کی اچھے سے تلاشی لی جارہی ہے۔ ایس ایس پی گورو گروور نے کہاکہ حکومت نے امن وامان کو خطرہ نہ ہو اس کےلیے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں، انہوں نے بتایاکہ چھ الگ الگ تنظیموں نے فون پر یہ کہا ہے کہ وہ چھ دسمبر کے دن عیدگاہ میں کرشن کی مورتی نصب اور گنگا جل سے شدھ کریں گے ایسی اطلاعات کے بعد ہم نے مندر احاطے کے آس پاس پیرا ملٹری فورس کو تعینات کردیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی تک مقامی انتظامیہ اور پولس کی مدد سے سبھی فریق سے بات کی ہے، انہو ںنے بتایاکہ ریاستی پولس اور نیم فوجی دستوں نے مندر اور شاہی عیدگاہ کے چاروں اطراف ڈھال بنادی ہے، باہری حالات کے ساتھ ساتھ ہم سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر علی گڑھ میں بابری مسجد شہادت کی برسی سے قبل ہائی الرٹ کردیاگیا ہے اور ہندو تو وادی تنظیموں کے لیڈران کو ریڈ کارڈ نوٹس جاری کی گئی ہے۔ یہاں یکم جنوری اور گائوں میں6جنوری تک دفعہ144نافذ کردی گئی ہے کوئی بھی انتظامیہ کی اجازت کے بنا کوئی پروگرام منعقد نہیں کرسکتا۔ اطلاعات کے مطابق بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ترجمان پیرزادہ شیر شاہ اعظم نے کہا ہے کہ کمیٹی چھ دسمبر کو یوم سیاہ کے طور پر منائے گی، مسلمانوں سے اپنی دکان اور کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دوپہر میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیاجائے گا۔ اتوار کو رائے والا روڈ پر واقع درگاہ شاہ بہلول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے ترجمان پیر شاہ اعظم نے کہاکہ کمیٹی کے ذریعہ کل چھ دسمبر سوموار کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ لیاگیا ہے۔ مسجد میماران راجے والی میں دوپہر ایک بجے احتجاجی جلسہ عام کا انعقاد کیاجائے گا۔
بابری مسجد مقدمہ کے فریق حاجی محبوب نے کہاکہ 6دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہوئے فسادات میں جاں بحق مسلمانوں کے ایصال ثواب کےلیے مسجدوں میں قرآن خوانی کا انعقاد کریں گے۔ انہوں نے متھرا کو لے کر کہا کہ اب متھرا کو لے کر تنازعہ شروع ہوگیا ہے اس کا منہ توڑ جواب دیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد کہاگیا تھا کہ اب آگے کوئی نیا تنازعہ نہیں ہوگا، لیکن پھر سے نیا ہنگامہ شروع کیاجارہا ہے، انہوں نے کہاکہ متھرا کے معاملے میں اگر تنازعہ کھڑا کیاگیا تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، اس کا منہ توڑ جواب دیں گے، اور وقت آئے گا تو بتائیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ لالو پرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ یوم شہادت منائے گی، پارٹی کے ریاستی دفتر میں بابری مسجد کی شہادت پر پروگرام منعقد کیاجائے گا، پردیش صدر جگدانند سنگھ نے کہاکہ پارٹی کے تمام لیڈروں کو اس کےلیے دعوت بھیج دی گئی ہے۔










